Al-Risala · August 1993 · page 40

Old ideas, new techniques.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۳، صفحہ ۴۰

سولاپور میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ عبدالواحد عبدالغفور شیخ اور زاہد علی خاں وغیرہ سے مسلسل ربط رہا۔ جناب زاہد علی خاں صاحب (پیدائش ۱۹۴۱ء) نے ایک موقع پر بہت با معنی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ حکمت بھوک میں رکھی گئی ہے اور لوگ حکمت کو شکم سیری میں ڈھونڈ رہے ہیں۔

قدیم زمانہ میں شولا پورمیں دیوگری یاد وکا راج تھا۔ پھر وہ مسلم بہمنی سلطنت کا جزو بنا۔ اس کے بعد اس پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔ ۱۹۴۷ سے وہ تقسیم کے بعد بننے والے ملک (بھارت) کا ایک حصہ ہے۔ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان ایام کو ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں (آل عمران ۱۴۰)

حکومتی اقتدار اس دنیا میں کسی ایک گروہ کی میراث نہیں ہے۔ یہ خدا کی سنت ابتلاء کے تحت بدلتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کبھی ایک گروہ کو سیاسی غلبہ دیتے ہیں اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ کسی گروہ کو سیاسی اقتدار ملے تب بھی وہ اس کے لئے امتحان ہے اور کسی گروہ سے سیاسی اقتدار چھن جائے تب بھی وہ اس کے لئے امتحان۔ آدمی کو چاہئے کہ دونوں حالتوں میں وہ اپنی ذمہ داریوں پر دھیان دے۔ نہ کہ اقتدار ملنے پر احساس برتری میں مبتلا ہو اور اقتدار چھینے تو احساس کمتری کا شکار ہو جائے۔

۱۱ نومبر ۱۹۹۱ء کی صبح کو میں سولاپور پہنچا۔ یہاں میرا قیام ڈاک بنگلے میں تھا۔ مقامی ساتھیوں سے کچھ دیر ملاقات کرنے کے بعد ہوٹل کنا رہ گیا۔ وہاں پریس کانفرنس ہوئی۔ ایک درجن سے زیادہ اخبارات کے ایڈیٹر اور نامہ نگار جمع ہو گئے۔ ان میں سے ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ بقیہ مہی۔ اخبارات سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔

ابتدائی گفت گو کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک مراٹھی اخبار کے نمائندہ نے کہا کہ سب سے ضروری کام مذہبی نفرت کو ختم کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں جس چیز کو مذہبی منافرت کہا جاتا ہے وہ حقیقتاً قومی منافرت کا دوسرا نام ہے۔ اس کو ہم ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ حسن تدبیر سے اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ اور وہ حسن تدبیر رواداری (tolerance) ہے ۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1993 All issues

Printed page