پرتی کریا میں جناب گرن پیچھے ڈھکیلتا ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۴۷
ہیں۔ اخبارات ورسائل کا مطالعہ کرنے والوں کے سامنے برابر اس کی مثالیں آتی رہتی ہیں۔ یہاں ہم صرف ایک مثال کا ذکر کرتے ہیں۔
مشہور ہندی ہفت روزہ پانچ جنیہ (۶نومبر ۱۹۸۸) میں مسٹر اٹل بہاری باجپئی کا انٹرویو شائع ہوا ہے جو ہر محبت وطن کے لیے پڑھنے کے قابل ہے۔ اس کا عنوان اس پورے انٹرویو کا خلاصہ ہے :
پرتی کریا میں جناب گرن پیچھے ڈھکیلتا ہے
یعنی ردِ عمل کے ذریعہ جو بیداری آئے، وہ قوم وملک کو آگے نہیں بڑھاتی، بلکہ پیچھے کی طرف لے جاتی ہے۔ جس طرح مسلمانوں میں بہت سے لوگ مسلمانوں کی ردِ عمل کی تحریکوں کو صحوہ اسلامیہ کا نام دیتے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں میں بہت سے خوش فہم لوگ ہیں جو ہندوؤں کے درمیان مسلم رد عمل کے تحت اٹھنے والی لہر کو ' ہندو بیداری کا نام دے رہے ہیں۔ مسٹر باجپئی نے ایسے ہندوؤں کو آگاہی دی ہے کہ یہ ایک منفی بیداری ہے ، اور منفی بیداری ہمیشہ تباہی کا باعث ہوتی ہے ، وہ تعمیر کا سبب نہیں بنتی۔
کوئی شخص خواہ کتنے ہی بڑے سیاسی عہدہ پر ہو، اس کو کبھی بے قید اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ جنرل محمد ضیاء الحق ساڑھے گیارہ سال (۸۸ - ۱۹۷۷) تک پاکستان کے مطلق حکمراں رہے۔ مگر پاکستان کی جو طاقتیں ملک کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں ، ان میں سے کسی ایک پر بھی وہ ہاتھ نہ ڈال سکے ۔ ۔۔ مثلاً بڑے بڑے جاگیردار، اسمگلر ، منشیات اور ہتھیاروں کا کاروبار کرنے والے ، بیوروکریسی، رشوت لینے اور دینے والے ، ٹیکس کی چوری کرنے والے ، علیحدگی پسند سیاست داں ، وغیرہ میں اس کو ناممکن سمجھتا ہوں کہ کوئی وزیر یا حکمراں ہندوستان کے اس مسئلہ کو حل کر سکتا ہے جس کو نہرونے ' ہندو فرقہ پرستی ' کہا ہے۔ ہندو فرقہ پرستی تمام تر مسلم فرقہ پرستی کا رد عمل ہے ، اور صرف مسلمان ہیں جو قرآن کے اصول کے مطابق ، صبر اور اعراض کی پالیسی اختیار کرکے اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کرسکتے ہیں۔
ہندوستان کے مسلمان اس ' ہندو فرقہ پرستی ' کے جواب میں آج بھی ٹھیک وہی طریقہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues