پرتی کریا میں جناب گرن پیچھے ڈھکیلتا ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۴۸
اختیار کیے ہوئے ہیں جو انھوں نے ۱۹۴۷ء سے پہلے مسلم لیگی لیڈروں کی رہنمائی میں اختیار کیا تھا۔ یعنی ہندو فرقہ سے براہ راست لڑنا ، اس کے خلاف ایجی ٹیشن کرنا، اس کی مذمت میں اپنے تمام الفاظ خرچ کر دینا۔
۱۹۴۷ء سے پہلے مسلمانوں نے جو سیاست اختیار کی، اس کے تجربہ نے بتایا کہ مذکورہ بالا قسم کی جوابی تحریک صرف فرقہ پرستی کے مسئلہ کو بڑھاتی ہے، وہ کسی بھی درجہ میں اسے کم نہیں کرتی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوتھان کے مسلمان، ۱۹۴۷ء سے پہلے جس درجہ کی ہندو فرقہ پرستی سے دوچار تھے، آج اس میں سوگنا زیادہ اضافہ ہو گیا ہے، ایسی حالت میں سابقہ پالیسی پر قائم رہنے کا آخر کیا جواز ہے۔ کیا مسلمان ایک بل میں دوبارہ ہاتھ ڈال کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حدیث کے مطابق، ان کو مومنانہ بصیرت حاصل نہیں، وہ سرے سے ایمان کی روشنی ہی سے محروم ہیں ۔ مدعو نہ کہ حریف مسلمانوں کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ ہندوستان کی فرقہ پرستی کا واحد حل وہی ہے جو قرآن میں بتایا گیا ہے۔ یعنی صبر اور اعراض ۔ مسلمانوں کو یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ وہ یک طرفہ طور پر صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں گے، وہ ہر حال میں رد عمل کی روش سے بچیں گے۔ یہی پہلے بھی ان کے مسئلہ کا حل ستا اور آج بھی یہی ان کے مسئلہ کا حل ہے ۔ اس کے سوا وہ تدبیریں جو ان کے بے ریش اور باریش رہنما ان کو بتا رہے ہیں، وہ صرف ہلاکت کی طرف لے جانے والی ہیں ۔ وہ ہرگز منزل کی طرف لے جانے والی نہیں ۔
مسلمان اب تک ہندوؤں کو اپنا حریف اور رقیب سمجھتے رہے ہیں ۔ ان کا یہ رویہ سراسر باطل ہے۔ وہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والا ہے۔ مسلمان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اس ملک میں خدا کے دین کے داعی ہیں ۔ ہندو ان کے لیے مدعو کا درجہ رکھتے ہیں ۔ مدعو اپنے داعی کا محبوب ہوتا ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ہندوؤں کے تئیں اپنے نفرت کے جذبات کو کھرچ کر نکال دیں۔ اور ان کے ساتھ محبت اور ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ معاملہ کریں۔ یہی ان کے سارے مسائل کی کنجی ہے۔ یہی ان کی منزل کا آغاز ہے اور یہی ان کی منزل کا اختتام بھی ۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو جو انگریزی الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے اپنے چار صفحہ کے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues