Al-Risala · October 1993 · page 16

شانتی یا ترا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۶

شانتی یا ترا

دسمبر ۱۹۹۲ کے نصف آخر میں ایک سفر پیش آیا۔ یہ شانتی یا ترا کا سفر تھا ۔ دہلی۔ بمبئی۔ پونہ ۔ ناگپور۔ بمبئی۔ دہلی کے درمیان بہت سی جگہوں پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس سلسلہ میں مجموعی طور پر تقریباً چھ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑا۔ یہ میری زندگی میں اپنی نوعیت کا پہلا سفر تھا۔ ذیل میں اس کی مختصر رو داد درج کی جاتی ہے۔

یہ سفر ایک ٹیم کی صورت میں تھا۔ میرے علاوہ اس میں جو لوگ شریک تھے ان میں سے کچھ کے نام یہ ہیں __ اچاریہ منی سوشیل کمار، سوامی چیدانند، شانتی لال موہتھا، انا صاحب ہزارے، جسٹس چندر شیکھر دھرماری۔

اچاریہ منی سوشیل کمار ہندوستان کی ایک غیر نزاعی شخصیت ہیں۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی امن کے پرچار میں لگا رکھی ہے۔ اجودھیا کے حادثہ نے انھیں بے چین کر دیا۔ نئی دہلی میں ان کے آشرم میں ہندو ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی ہر مذہب کے رہنماؤں کی میٹنگیں ہوئیں ۔ آخر کار طے ہوا کہ امن کے فروغ کے لئے اس سلسلہ میں کچھ عملی قدم اٹھائے جائیں۔

اس سلسلہ کا آغاز ۱۴ دسمبر ۱۹۹۲ کو ٹی وی پروگرام سے ہوا۔ پہلے ڈیفنس کالونی نئی دہلی کے آشرم میں مختلف مذہبوں کے لوگ جمع ہوئے۔ ٹی وی کی ٹیم یہیں آگئی تھی۔ اس نے ہر ایک سے ایک ہی سوال کیا ” موجودہ حالات میں آپ دیش کے لوگوں کو کیا سندیش دینا چاہیں گے؟ ہر مذہب کے نمائندہ نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت یہ ہے کہ امن قائم ہو اور نفرت کا خاتمہ کیا جائے ۔ میں نے بھی یہی بات اپنے انداز سے کہی۔ میں نے مزید کہا کہ جب کچھ لوگ مل کر رہیں، تو خواہ وہ ایک گھر میں ہوں یا ایک ملک میں، بہر حال ایسے مواقع آتے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اس لئے عملی طور پر امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب کہ اختلافی بات پیش آنے کے باوجود امن و محبت کا طریقہ اختیار کیا جائے۔

آج ہی ٹی وی پر دوسرا پروگرام پینل کی صورت میں تھا۔ اس میں اچار یہ سوشیل کمار ،

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page