Al-Risala · October 1993 · page 18

شانتی یا ترا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۸

علاقوں میں فرقہ وارانہ فساد شروع ہو گیا۔

۱۵ دسمبر ۱۹۹۲ کی صبح کو ساڑھے چھ بجے گھر سے نکل کر ایئر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ فضا میں ہر طرف اجالا پھیل چکا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ آج رات کو میں نے ایک اردو پر چہ میں ایک مضمون پڑھا تھا۔ اس کا عنوان تھا_” ہر طرف اندھیرا “ اس میں دکھایا گیا تھا کہ آج ہر جگہ کے مسلمان ظلم و زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ملت کے افق پر ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا ہے۔

میں نے سوچا کہ اس زمین پر خدا مسلسل یہ کر رہا ہے کہ وہ ہر ۲۴ گھنٹے کے اندر شام کو صبح میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ ہر روز رات کی تاریکی کو ختم کر کے دن کا اجالا پھیلا رہا ہے۔ اس طرح خدا دکھا رہا ہے کہ اس دنیا میں مایوسی کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ یہاں ہر اندھیرے کے بعد اجالا ہے۔ ایسی حالت میں قرآن کے حاملین ” اندھیرا ہی اندھیرا “ کی فریاد کیوں کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ فکری اعتبار سے وہ اس حالت کو پہنچ گئے ہوں جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: ان قومى اتخذوا هذا القرآن مهجورا (الفرقان (۳۰)

ہمارے امن مشن کو دہلی سے پونہ پہنچنا تھا۔ مگر رات کو معلوم ہوا کہ پونہ کی فلائٹ کینسل ہو گئی ہے۔ فوری طور پر رات ہی کو جہاز تبدیل کیا گیا اور ریسٹے کیا گیا کہ دہلی سے ، بمبئی جائیں اور وہاں سے پونہ پہنچیں۔ چنانچہ ایئر پورٹ پر خلاف معمول سناٹا تھا۔ بڑی تعداد میں انڈین ایئر لائنز کے جہاز گراؤنڈ پر کھڑے ہوئے نظر آئے۔

انڈین ایئر لائنز کے پائلٹوں نے اسٹرائیک کر رکھی ہے۔ ائر پورٹ پر میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ اسٹرائیک کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ان پائلٹ لوگوں کو فی گھنٹہ بارہ سو روپیہ ملتا ہے۔ وہ سات ہزار روپیہ روز کماتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھانا رہنا سب فری ہے۔ تب بھی وہ خوش نہیں۔ انہیں مہینہ میں دو لاکھ روپیہ چاہئے!

انڈین ایئر لائنز کے پائلٹوں نے جب اسٹرائیک کر دی تو سول اویشن منسٹر نے فوراً متبادل انتظام کی تلاش شروع کر دی۔ پر مسرت تعجب کے ساتھ انہیں معلوم ہوا کہ روس کے ۵۰۰ ہوائی جہاز ازبکستان میں خالی پڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے روسی حکومت سے ربط قائم کیا اور آسان شرطوں پر چھ ہوائی جہاز فوری طور پر منگوالئے۔ اس طرح ٹرنک روٹ (دہلی، بمبئی، کلکتہ، مدراس) کی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page