پرتی کریا میں جناب گرن پیچھے ڈھکیلتا ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۵۰
اس کے بعد خود مسلمانوں کی دو قومی سیاست کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے کہ دو فرد کا مسئلہ دو قوم کا مسئلہ بن جاتا ہے ۔ دونوں طرف کے لوگ اپنی اپنی قوم کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں قومی شکایات جو سوئی ہوئی تھیں ، اچانک جاگ پڑتی ہیں ۔ قومی ساکھ اور قومی حمیت کا مسئلہ بن جانے کی وجہ سے دونوں فرقوں میں سے کوئی شخص یہ ہمت نہیں کرتا کہ وہ اپنے فرقہ کے خلاف بولے تمام لکھنے اور بولنے والے یک طرفہ طور پر اپنے فرقہ کی حمایت اور دوسرے فرقہ کی مذمت شروع کر دیتے ہیں۔ قومی حمایت کا یہی انداز ہندو بھی اختیار کرتے ہیں اور یہی انداز مسلمان بھی۔ اب فرقہ وارانہ فساد کو ختم کرنے کی تدبیر صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ مسلمان پورے عزم کے ساتھ یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں گے ۔ وہ ہر حال میں صرف اعراض کی پالیسی اختیار کریں گے نہ کہ لڑنے اور مقابلہ کرنے کی پالیسی۔
اگر مسلمان پوری طرح یہ فیصلہ کر لیں تو یقینی طور پر فساد کی جڑ کاٹ دیں گے۔ اس کے بعد ہر چنگاری اپنے ابتدائی مرحلہ میں بجھ کر رہ جائے گی ، وہ فساد اور قتل و خون کے مرحلہ تک نہ پہنچے گی ۔ جہاں بھی مسلمانوں نے اعراض کا طریقہ اختیار کیا ہے ، وہاں لازمی طور پر ایسا ہی پیش آیا ہے ۔
مسلمان اگر پوری طرح اعراض کی پالیسی اختیار کر لیں تو ابتدائی اشتعال کا ہر واقعہ صرف ایک شخصی واقعہ بن کر رہ جائے گا ۔ وہ دو قوموں کے وقار کا مسئلہ نہیں بنے گا۔ اس کے بعد پولیس سے بھی مسلمانوں کی شکایت ختم ہو جائے گی۔ پولیس مسلمانوں کے لیے اس وقت ظالم بنتی ہے جب کہ مسئلہ دو قومی صورت اختیار کرلے ۔ دو قومی صورت اختیار کرنے کے بعد مسلمان پولیس کی گولی کا نشانہ بنتے ہیں۔ لیکن اگر مسئلہ دو قومی نہ بنے تو وہ افراد پولیس کی گولی کا نشانہ بنیں گے جنھوں نے ابتدائی طور پر شرارت کی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues