Al-Risala · October 1993 · page 44

ACPs study Bhiwandi's technique of peace

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۴

کنارے قائم کیا تھا۔ یہ ایک پرسکون مقام ہے جہاں کھلے میدانوں اور برے درختوں کے درمیان جگہ جگہ جھونپڑے (huts) بنے ہوئے ہمیں اسی میں نے ایک گاندھی جی کا جھونپڑا ہے جو صرف لکڑی اور مٹی کا بنا ہوا ہے۔ تمام جھونپڑوں کے اوپر منگلور ٹائل لگے ہوئے ہیں۔

مہاتما گاندھی کے جھونپڑے کو " باپو کٹی" کہا جاتا ہے۔ وہ انتہائی سادہ تھا۔ جنوری ۱۹۷۸ء میں میکویکوبے آئیوان اچ (Ivan Illich) یہاں آئے تھے۔ وہ باپو کٹی کی سادگی سے اتنا متاثر ہوئے کہ وہ روزانہ دیر دیر تک یہاں دھیان لگا کر بیٹھے رہتے تھے تاکہ اس سے روحانی فیض حاصل کریں۔ برٹش گورنمنٹ نے بطور خود یہاں ٹیلی فون لگوایا تھا تاکہ برطانوی ذمہ دار مہاتما گاندھی سے بات کر سکیں۔ گاندھی جی کے ایک شاگر دمسٹر گنیش دتہ گادر سے (۷۲ سال) نے بتایا کہ گاندھی جی کی اس غریبی پر امیرا نہ خرچ کرنا پڑتا تھا۔ مسٹر گادر سے کے بیان کے مطابق، مسٹر سروجنی نائیڈو (۱۹۳۹-۱۸۷۹) نے تقسیم سے پہلے ایک بار کہا تھا کہ گاندھی کی غریبی کو باقی رکھنے کے لئے، ہر لا کو دو ہزار روپیہ روزانہ خرچ کرنا پڑتا ہے:

It takes Birla two thousand rupees per day to keep Gandhi poor. واضح ہو کہ یہ پچاس برس پہلے کی بات ہے۔ اس وقت دو ہزار روپیہ روزانہ آج کے لحاظ سے ۲۰ ہزار روپیہ روزانہ سے بھی زیادہ تھا۔

۲۱ دسمبر کو سیواگرام کی ایک نشست میں میں نے کہا کہ یہاں کا پورا ماحول سکون اور شانتی کا ماحول ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سکون اور شانتی کا یہی ماحول پورے ملک میں عام ہو جائے۔ میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے آزادی کی تحریک میں عوام کو نان وائلنس (اہنسا) کی بنیاد پر موبیلائز کیا تھا۔ ہم تعمیر ملک کی تحریک کو دوبارہ نان وائلنس کی بنیاد پر موبیلائز کرنا چاہتے ہیں۔ ۱۹۴۸ میں جہاں مہاتما گاندھی کا مشن ختم ہوا تھا، وہیں سے دوبارہ ہیں۔ اپنے عمل کا آغاز کرنا ہے۔ شانتی یاترا میں میرے ساتھ ایک بڑے ہندو گرو بھی تھے۔ میں نے دیکھا کہ ہر جگہ لوگ ان کے ساتھ غیر معمولی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور ان سے آشیرواد (برکت) لے رہے ہیں۔ میں نے غور کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ اپنے ہی جیسے ایک انسان کو لوگ اتنا زیادہ عظمت

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page