Al-Risala · October 1993 · page 45

مورتیوں کو ہٹاؤ مسجد وہیں بناؤ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۵

دینے لگتے ہیں۔ یہی چیز خود مسلمانوں میں بھی "اکابر" کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ غور کرنے کے بعد سمجھ میں آیا کہ یہ در حقیقت انسانی فطرت میں چھپے ہوئے جذبہ عبودیت کا غلط استعمال ہے۔ عبودیت کا جذبہ ہر انسان میں نہایت طاقت ور صورت میں موجود ہے۔ وہ اس لئے تھا کہ خدا کو اس کا مرجع بنایا جائے۔ مگر نادان لوگ خود ساختہ اکابر کو اس کا مرجع بنا لیتے ہیں۔ جو لوگ انسانی اکابر کو اپنے جذبہ عبودیت کا مرکز بناتے ہیں، ان سے آپ ملیں تو وہ ہمیشہ سکون اور آنند کی بات کریں گے۔ جب کہ اصحاب رسول کے یہاں ہم پاتے ہیں کہ ان کے ایمان باللہ نے ان کو بے چینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی اکابر کے یہاں احتساب (accountability) کا کوئی تصور نہیں ہوتا، جب کہ خدا کے یہاں احتساب کا تصور شدت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ عبودیت، احتساب کے بغیر آنند ہی آنند ہے، اور عبودیت، احتساب کے ساتھ درد ہی درد۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو تاجر نے کہا کہ مسلمانوں میں ایک کمزوری ہے، اور وہی ان کی ساری مصیبتوں کا اصل سبب ہے۔ مسلمان بہت آسانی سے کسی شوشہ کی بات پر سپر ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ چاہتے کہ مسلمان ترقی نہ کریں وہ مسلمانوں کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک ان کو شوشوں میں الجھائے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کی طاقت جو اپنی ترقی میں لگنا چاہئے وہ دوسروں سے لڑنے میں ضائع ہو جاتی ہے۔ اس کا حل صرف ایک ہے ــــ مسلمانوں کو اتنا زیادہ باشعور بنا دیا جائے کہ لوگ اشتعال انگیزی کریں تب بھی وہ مشتعل نہ ہوں۔ یہاں اشتعال انگیزی کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ مشتعل ہونے والے لوگ مشتعل ہونا چھوڑ دیں۔

۲۱ دسمبر کی شام کو ہم ناگپور میں داخل ہوئے۔ سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک جگہ دیکھا ایک بینر لگا ہوا ہے۔ اس پر ہندی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :

رام للاہم آئیں گے مندر وہیں بن آئیں گے۔

دہلی کے مسلم محلہ میں اسی قسم کا نعرہ میں نے برعکس صورت میں دیکھا تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ سڑک کے درمیان کالا کپڑا لٹکا ہوا ہے۔ اس پر یہ لکھا ہوا تھا :

مورتیوں کو ہٹاؤ مسجد وہیں بناؤ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues

Printed page