مورتیوں کو ہٹاؤ مسجد وہیں بناؤ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۷
کو ہمالیائی غلط اندازہ (Himalayan miscalculation) قرار دیا۔ آپ لوگوں کے لئے صرف افسوس کا اظہار کافی نہمیں۔ آپ کو چاہئے کہ اپنی تحریک کو مکمل طور پر روک دینے کا اعلان کریں۔ اس سے کم درجہ کی کوئی بھی چیز آپ کے لئے کافی نہیں ہوسکتی۔
ناگپور میں شآنتی یاترا ختم ہوگئی۔ اب ہمیں ناگپور سے دہلی واپس جانا تھا۔ مگر پائلٹوں کی ہڑتال کی وجہ سے تمام ملک میں پروازیں معطل ہورہی ہیں۔ صرف ٹرنک روٹ پر مشکل سے پروازوں کا سلسلہ باقی رکھا جاسکاہے۔ اس لئے ہم لوگوں نے طے کیا کہ ناگپور سے بمبئی جائیں۔ اور بمبئی سے دہلی کے لئے ہوائی جہاز پکڑیں۔
ناگپور سے دہلی پہنچنے کے لئے ہیں صرف ۱۰۹۵ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ مگر ناگپور سے بمبئی اور پھر بمبئی سے دہلی کا راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے ہماری منزل ۱۷۲۳ کلومیٹر لمبی ہوگئی۔ قریب جب قابل عمل نہ ہو تو دور ہی زیادہ قریب بن جاتا ہے۔
۲۲ دسمبر کو ہم لوگ انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۸۱ کے ذریعہ ناگپور سے بمبئی پہنچے۔ یہاں قیام کرنے کے بعد ۲۳ دسمبر ۱۹۹۲ کو انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۱۸۳ کے ذریعہ دہلی واپسی ہوئی۔ دہلی پہنچنے کے بعد بظاہر شانتی یاترا ختم ہوگئی۔ مگر میں نے سوچا کہ اصل کام تو اب شروع کرنا ہے۔ یعنی شانتی یاترا کے تجربہ کو مزید آگے بڑھانا ہے۔ چنانچہ مسٹر شانتی لال موٹھانے کہا کہ ہم اس شانتی اندولن کو پورے دیش میں چلائیں گے۔
بمبئی کے ٹائمس آف انڈیا ۲۲ دسمبر کے درمیانی صفحہ پر دو مضمون چھپے ہوئے تھے۔ ایک امولیا گنگولی کا تھا۔ اس مضمون میں ملک کے لوگوں کی غیر سنجیدہ سوچ کا ذکر کرتے ہوئے اسٹرائمل بہاری باجپئی کا یہ تبصرہ نقل کیا گیا تھا کہ ہوش وحواس کی بات کون سنتا ہے: Who's going to listen to the voice of sanity. انھوں نے ملک کی تاریک صورت حال کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا تھا کہ اگر یہی حالت باقی رہی تو احمد دھیا کے واقعہ کے بعد انڈیا اعتباری بحران (credibility crisis) میں مبتلا ہو جائے گا۔ انڈیا دوسرا لبنان یا دوسرا یوگوسلاویہ بن جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1993 All issues