Al-Risala · November 1993 · page 56

رسول کا طریقہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۵۶

کیا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اصل مقصود مسئلہ کا عملی حل ہے نہ کہ مسئلہ کا منطقی تجزیبیہ۔ اس سنت کا تقابل ہندوستانی مسلمانوں کے موجودہ طریقہ سے کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے دانشور اور رہنما مسلسل طور پر اس سنت نبوی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ آدھی صدی سے وہ یہی کر رہے کہ مسلم۔ ہند و معاملات میں وہ مسئلہ کے عملی حل کی طرف توجہ نہیں دیتے ۔ البتہ کیئی غیر مسلم اگر قانونی تجزیہ کر کے ایسی بات کہے جس سے مسلمانوں کی حمایت نکلتی ہو تو فوراً وہ اس کو طرف دوڑ پڑتے ہیں۔

مثلاً اگر کوئی غیر مسلم کچھ نکنتوں کو لے کر یہ کہہ دے کہ ملک کا بٹوارہ مسلمان نے نہیں کرایا بلکہ ہندوؤں نے کرایا۔ کوئی کمیشن یہ لکھ دے کہ فلاں فساد میں اصل غلطی پولیس کی تھی۔ کسی اخبار میں یہ چھپ جائے کہ مسلمانوں کے ساتھ سرکاری سروسوں میں امتیاز کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی کوئی بات کوئی غیر مسلم کہے یا لکھے تو مسلمان خوب اہتمام کے ساتھ اس کا چرچا کرتے ہیں۔ مگر انہیں ایسی باتوں کی طرف کوئی رغبت نہیں ہوتی جس میں صلح حد یہ کے اصول پر عملی حل کی تدبیر بتائی گئی ہو۔ مسلم دانشوروں اور مسلم رہنماؤں کا یہ مزاج کھلے طور پر سنت رسول کے خلاف ہے۔ اور جو مسلم گروہ سنت رسول کے خلاف چلے اس کے لیے خدا کا فیصلہ ہے کہ وہ کبھی اس دنیا میں عزت کی زندگی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔

دو گروہوں کے جھگڑے میں جو لوگ آئیڈیلزم کی بات کریں، ان کی بات کچھ سادہ لوح افراد کو اچھی لگ سکتی ہے۔ مگر یقینی طور پر یہ اصل مسئلہ کا حل نہیں۔ اجتماعی جھگڑے ، خواہ وہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہوں یا مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان ، ان میں ہمیشہ ایسی نزاکتیں شامل ہو جاتی ہیں جو معیاری حل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ایسے موقع پر معیاری حل کی بات کرنا صرف مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنانا ہے نہ کہ مسئلہ کو ختم کرنا۔

عقل اور دین دونوں کا تقاضا ہے کہ ایسے موقع پر عملی حل کا طریقہ اختیار کیا جائے معیاری حل خارجی اصولوں کی بنیاد پر وضع کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس عملی حل معاملہ کے دونوں فریقوں کی رعایت کے تحت مقرر کیا جاتا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ایسے موقع پر معیاری حل ایک شاعری ہے۔ اور عملی حل مسئلہ کے خاتمہ کی طرف ایک حقیقی قدم۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues

Printed page