کمزور تعمیر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۵
کمزور تعمیر
بچوں کا گھروند اجتنی دیر میں بنتا ہے ، اس سے بھی کم مدت میں وہ زمیں بوس ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مضبوط اور مستحکم زندگی کیا ہے ۔ اور وہ زندگی کیا ہے جو کمزور بنیادوں پر کھڑی کی گئی ہو ۔
بارش اور طوفان میں جب کوئی مکان گر پڑتا ہے تو باہر کا طوفان اس کو نہیں گر اتا ، مکان کی اپنی کمزوری اس کو گرا دیتی ہے ۔ آندھیاں اٹھتی ہیں تو چھپر اڑ جاتے ہیں مگر پتھر سے بنے ہوئے خستے آندھیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں ۔
ہر آدمی اپنے عمل سے اپنی زندگی کی تعمیر کر رہا ہے۔ مگر تعمیر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تعمیر وہ ہے جس کے پیچھے گہری بنیاد نہ ہو ، جس کا ڈھانچہ بس اوپر اوپر کھڑا کر دیا گیا ہو ۔ ایسی زندگی ہمیشہ حادثات کی زد میں رہتی ہے ۔ مخالفت کا معمولی جھونکا بھی اس کو ہلانے کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے زمین پر قرار اور استحکام نہیں۔
دوسری زندگی وہ ہے جو گہری بنیادوں پر تعمیر کی جائے۔ جس کے تمام اجزا ءپختہ مادہ سے تیار کئے گئے ہوں۔ ایسی زندگی کو کوئی ہلا نہیں سکتا۔ مخالفین کی مخالفتیں اور دشمنوں کی سازشیں صرف اس کی مضبوطی کی تصدیق کرتی ہیں۔
کمزور تعمیر میں وقت بہت کم لگتا ہے ، اس لئے اکثر لوگ کمزور تعمیر کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔ مگر کمزور تعمیر روزانہ گرتی ہے اور روزانہ بنائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس مستحکم تعمیر کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک بار بنا دی جائے تو صدیوں تک اپنی جگہ اٹل ہو کر کھڑی رہتی ہے۔ مستقبل کے لحاظ سے دیکھئے تو سب سے کم وقت مستحکم تعمیر میں لگتا ہے ، مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ اگر آپ کو بنانا ہے تو قلعہ بنائیے ، بچوں کا گھروند انہ بنائیے۔ اس کے بعد آپ کو کسی کے گلے کی شکایت نہ ہوگی۔ کیوں کہ اس کے بعد کوئی ظالم آپ کے قلعہ کو توڑنے کی ہمت ہی نہیں کرے گا۔ اور اگر کسی نے توڑنا چاہا تو اس کا اپنا سر تو ضرور ٹوٹ جائے گا ، مگر آپ کا قلعہ توڑنے میں وہ کامیاب نہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues