کل اور آج
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۶
کل اور آج
ہر آدمی اپنے گزشتہ کل کو کھو چکا ہے ، کامیاب وہ ہے جو اپنے آج کو نہ کھوئے ـــــــــ پچھلا دن جا چکا ۔ اب تو آپ کے پاس صرف آج ہے۔ پھر آج کو آپ کیوں کھوئیں ۔
اکثر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنے پچھلے کل کو استعمال نہ کر سکے تو اپنے آج کے دن اس کا افسوس لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ کل کی خاطر آج کو بھی کھونا ہے۔ نسلے ہوئے کی ٹوکری میں ملے ہوئے کو بھی برباد کر دینا ہے۔ عقل مند آدمی وہ ہے جو اپنے آپ کو اس دہرا نقصان سے بچائے۔ اگر آپ کا پچھلا کل کھویا گیا ہے تو اس کو کھویا ہوا نہ سمجھے ، اس کو تجربہ سیکھنے کا ذریعہ بنا لیجئے ۔ اس طرح آپ کا کھویا ہوا سرمایہ بھی پایا ہوا سرمایہ بن جائے گا۔ ماضی کے تجربہ کے سرمایہ کو اپنی حال کی پونجی میں ملا دیجئے۔ اور پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کی کھوئی ہوئی چیز بھی مزید اضافہ کے ساتھ آپ کو دوبارہ مل گئی ہے۔
پچھلے کل کا غم کرنا اوریا اپنی صلاحیت کے ایک حصہ کو ضائع کر دینا ہے۔ آپ ایسی غلطی کیوں کریں۔ آپ نئے دن میں اپنی ادھوری صلاحیت کے ساتھ کیوں داخل ہوں۔ پچھلے کل کے غم سے اپنے دماغ کو خالی کر دیجئے اور اپنی پوری طاقت کو لے کر اپنے نئے دن کے منصوبہ میں لگ جائیے ۔ ۔ یہی کامیاب زندگی کا صحیح طریقہ ہے۔
آپ خواہ کتنا ہی زیادہ گزشتہ کل کی فکر کریں ، گزشتہ کل اب دوبارہ آپ کی طرف واپس آنے والا نہیں۔ جانے والی چیز جا چکی ، رہنے والی چیز باقی ہے۔ جانے والی چیز کو بھلا دیجئے اور رہنے والی چیز کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ پکڑ لیجئے ۔ یہی اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا واحد راز ہے۔ یہاں کامیابی حاصل کرنے کا دوسرا کوئی طریقہ نہیں۔
پچھلے کل کا محاسبہ کرنا بہت ضروری ہے ، مگر پچھلے کل پر غم کرنا اتنا ہی بے فائدہ ہے۔ آپ یہ ضرور دیکھئے کہ پچھلے کل کو آپ نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ مگر یہ دیکھنا نصیحت کے لئے ہو نہ کہ افسوس کرنے کے لئے۔
آج کو استعمال کیجئے ۔ کیونکہ گزرا ہوا کل تو اب کبھی واپس آنے والا نہیں۔ ۱۹ | رسالہ نومبر ۱۹۷۳ء
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues