Al-Risala · November 1993 · page 22

ودیشا کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۲

سے نکال دے اور پھر اس کو گزر بسر کے لئے کچھ دینے سے بھی انکار کر دے۔

میں نے کہا کہ اس معاملہ کو اس کے پورے ماحول میں رکھ کر دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ وہ بالکل درست ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ حکم اس سماج کے لئے ہے جہاں اسلام کا قانون نافذ ہو اور اسلام کا نظام قائم ہو۔ ایسے سماج میں حکومتی خزانہ (بیت المال) ہر ضرورت مند بیوہ کا پوری طرح کفیل ہوتا ہے۔ مطلقہ عورت کو سابق شوہر سے گزارہ نہ دلوا کر وہ حکومت کے خزانہ سے زیادہ بہتر طور پر اس کا گزاره دلوا تا ہے۔

سابقہ شوہر سے گزارہ لینا کسی عورت کے لئے با عزت طریقہ نہیں ہو سکتا۔ اسلام جب کسی مطلقہ عورت کو اس کے سابق شوہر سے گزارہ نہیں دلوا تا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ عورت کے لئے بے عزت گزارہ کے بجائے با عزت گزارہ کا انتظام کر رہا ہے۔

مگر ۱۹۸۶ میں کچھ مسلمانوں نے شاہ بانو بیگم کے نام پر جو اندولن چلایا اس سے مجھے اتفاق نہیں۔ کیوں کہ اس ملک کے قائم شدہ نظام میں سرکاری خزانہ سے گزارہ دلوانے کا انتظام نہیں ہے۔ پھر جب ایک مطلقہ کو حکومت کے خزانہ سے گزارہ دلوانا ہمارے اختیار میں نہیں تو ہم اس کو دوسرے ممکن ذریعہ سے لینے پر روک کیوں لگائیں۔

بھوپال کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ سے واقف تھے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے خلاف یہ کہا جاتا ہے کہ آپ ہمیشہ صلح حد یبیہ کی بات کرتے ہیں۔ اسلام میں تو جنگ بدر اور جنگ احد بھی ہے۔ میں نے کہا کہ عمل ہمیشہ حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ۲۳ سالہ عمر نبوت میں مختلف طریقے اختیار کئے ۔ ایسا نہیں ہوا کہ ہر روز آپ لوگوں سے بس جنگ بدر اور جنگ احد لڑ رہے ہوں۔

میں نے کہا کہ کچھ مسلمان بیٹھے ہوئے ہیں۔ اتنے میں جمعہ کی نماز کی اذان بلند ہوتی ہے۔ اس وقت اگر کوئی شخص کہے کہ چلو مسجد، چلو مسجد، تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ تم تو بس ہر وقت مسجد اور نماز ہی کی بات کرتے ہو۔ آخر اسلام میں جنگ اور قتال کا حکم بھی تو ہے۔ اگر کوئی شخص ایسا کہے تو یقیناً آپ اس کو یہ جواب دیں گے کہ اس وقت اسلام کا جو حکم ہمارے اوپر عائد ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ ہم اٹھیں اور وضو کر کے مسجد پہنچیں تا کہ جمعہ کی اجتماعی عبادت ادا کر سکیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues

Printed page