ودیشا کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۳
اسی طرح آج ملت کے جو حالات ہیں ان میں یہ دیکھنا ہے کہ کون سا حکم ہے جو اس وقت ہم سے مناسبت رکھتا ہے۔ چنانچہ ہندو مسلم معاملہ میں اس وقت اسلام کا جو حکم ہمارے لئے قابلِ انطباق ہے وہ جنگ نہیں ہے بلکہ وہی ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں صلح مطلوب ہے آج جنگ مطلوب نہیں۔
ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی " سنگھ پریوار اور مسلمان " کے موضوع پر ان سے گفتگو ہونے لگی۔ انھوں نے کہا کہ ہندو مسلم تعلقات کو نارمل بنانے میں اصل رکاوٹ یہ ہے کہ مسلمان تاریخ کی حقیقتوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں:
The stumbling block is the reluctance to accept facts of history. انھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بابر نے " ایودھیا اسٹرکچر" بھارت واسیوں کی تحقیر (humiliation) کے لئے کھڑا کیا۔
میں نے کہا کہ سنگھ پریوار کے کہنے سے کوئی چیز تاریخی حقیقت نہیں ہو جاتی۔ تاریخ کو تاریخ داں طے کرتے ہیں۔ آپ لوگ ایسا کیجئے کہ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں انڈین ہسٹری کے جو پروفیسر ہیں، ان کا ایک بورڈ بنا دیجئے۔ وہ جو فیصلہ کریں اس کو آپ بھی مان لیں اور مسلمان بھی مان لیں۔ اس پر وہ راضی نہیں ہوئے۔
آدمی دلیل کا نام لیتا ہے۔ مگر دلیل جب اس کو اپنے خلاف جاتی ہوئی نظر آتی ہے تو وہ دلیل کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔
دوپہر کا کھانا ایک آشرم میں تھا جو یہاں کے اسپتال سے ملا ہوا ہے۔ اس آشرم کا خرچ زیادہ تر ایک مقامی ہندو تاجر ادا کرتے ہیں۔ آشرم کی مختلف سرگرمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگ ایک روپیہ کی علامتی قیمت پر ضرورت مندوں کو عمدہ کھانا کھلاتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آشرم کے ذمہ دار روزانہ صبح کو سڑک پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دیہات کے لوگ جو علاج کی غرض سے اسپتال آتے ہیں یا دوسرے دیہاتی جو کسی ضرورت کے تحت شہر آتے ہیں، ان کو ایک روپیہ لے کر ایک ٹکٹ دیدیتے ہیں، اس کے بعد دوپہر کو مقرر وقت پر وہ آشرم آتے ہیں اور ٹکٹ واپس کر کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues