ودیشا کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۴
کھانا کھاتے ہیں۔
میں نے ۱۲ جنوری کو دوپہر کا کھانا اسی آشرم میں کھایا۔ میرا خیال ہے کہ یہ کھانا اگر ہوٹل میں کھایا جائے تو اس پر پانچ روپے سے بھی زیادہ خرچ آئے گا۔ مگر یہ صاف ستھرا کھانا روزانہ ۲۰۰ آدمیوں کو صرف ایک روپیہ کی برائے نام قیمت پر کھلایا جاتا ہے۔ اور کھانا کھلانے کا کام ملاز مین نہیں کرتے۔ بلکہ خود مذکورہ ہند وسیٹھ اور دوسرے حضرات رضا کارانہ طور پر یہ خدمت انجام دیتے ہیں۔ ۱۲ جنوری کو دوپہر کے وقت مقامی پتھر کاروں سے ملاقات کا پرو گرام تھا۔ میں نے صحافی حضرات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اکثر برائیوں کی جڑ ہماری صحافت ہے۔ ہماری صحافت میں سب سے زیادہ اہمیت گرما گرم خبر (hot news) کو دی جاتی ہے۔ مثلاً اگر میں خدانخواستہ و دیشاکے کسی پولیس افسر پر بم ماروں تو آپ حضرات فوراً اس کو رپورٹ کریں گے۔ مگر آج میں نے یہاں ایک آشرم دیکھا جو ۲۰ سال سے اسی طرح چل رہا ہے۔ اور اب تک اس کی خبر ہمارے اخبارات میں نہ آسکی۔ کیوں کہ آپ لوگوں کی اصطلاح میں وہ کوئی ”گرم خبر“ نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ اچھی خبروں کو نہ چھاپنا اور بری خبروں کو چھاپنا، اسی کا نام زرد صحافت ہے۔ ہمارے تمام اخبارات کم وبیش اسی زرد صحافت کا نمونہ ہیں۔ اور جس ملک کی صحافت زرد صحافت ہوجائے، اس کا سماج بھی آخر کار زرد سماج بن کر رہ جائے گا۔
اس کے بعد اجو دھیا کے واقعہ پر اور ملک کے مستقبل کے بارے میں مختلف سوالات ہوئے جن کا میں نے اپنے انداز میں جواب دیا۔
۱۲ مارچ کو نماز عشاء کے بعد جلسہ کا انتظام تھا۔ وہاں پہنچا تو ایک وسیع شامیانہ میں تعلیم یافتہ ہندوؤں کی بڑی تعداد بیٹھی ہوئی تھی۔ ایک ہندو نے بھائی نے میرے کان میں کہا: ”یہ سب لوگ آپ ہی کو سننے کے لئے آئے ہیں۔ “ میں سخت الجھن میں تھا۔ آخر وقت بھی میرا ذہن یہ طے نہیں کر پایا تھا کہ آج مجھے کیا کہنا ہے۔ اسی ذہنی پریشانی کے ساتھ میں مંચ پر بیٹھا تھا کہ اعلان ہوگیا کہ ”اب مولانا صاحب آپ کو مارگ درشن کرائیں گے؛
میں اس حال میں مائک کے سامنے آیا کہ احساس عجز کے تحت میری آنکھوں میں آنسو آگئے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues