ودیشا کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۵
تھے ۔ میں نے خاموش الفاظ میں دعا کی کہ خدایا : یہ تیری پیدا کی ہوئی روحیں ہیں جو سچائی کی بات سننے کے لئے یہاں اکٹھا ہوئی ہیں۔ مگر مجھے ہمیں معلوم کہ میں ان سے کیا کہوں ۔ خدایا ، آج توہی میرے لئے پہلے بیک اسپیکر بن جا۔ تاکہ میں وہ بات کہہ سکوں جو تیری پسند کے مطابق ہو۔ اس کے بعد میں نے تقریر شروع کی اور دیوانگی کے عالم میں تقریبا ایک گھنٹہ تک بولتا رہا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے اپنی تقریر میں کیا کہا۔ مگر بعد کو بمبئی کے مسٹر مدھو مہتا نے بتایا کہ آپ کی تقریر کے دوران لوگ اس قدر محو تھے کہ کروٹ بھی نہیں بدل رہے تھے ۔ اکثر لوگوں کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ حتی کہ عورتوں کو بھی میں نے دیکھا کہ وہ رو رہی تھیں۔ یہاں کے ہندوؤں میں سوامی و یویکا نند کو ماننے والے بہت سے لوگ ہیں۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ سوامی و یویکا نند امریکہ گئے۔ وہاں ۱۸۹۳ء میں انھوں نے شیکاگو کی عالمی مذاہب کانفرنس (World's Parliament of Religions) میں ہندو ازم پر تقریر کی۔ شیکاگو کے اسٹیج پر سوامی و یویکا نند کے اس ظہور کو سنسنی خیز ظہور (sensational appearance) سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ (623/ 15)
وہاں کے تمام مقرر مغربی قاعدہ کے مطابق ، لیڈیز اینڈ جنٹلمن کے الفاظ سے اپنی تقریر شروع کر رہے تھے۔ سوامی و یویکانند جب کھڑے ہوئے تو ہندوستانی روایت کے مطابق، ان کی زبان سے نکلا کہ امریکہ کے بہنو اور بھائیو (sisters and brothers of America) یہ الفاظ لوگوں کی فطرت کے اتنے زیادہ مطابق تھے کہ ہال میں دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ اس کانفرنس میں سوامی جی کی تقریر سب سے زیادہ پسند کی گئی۔
میں نے کہا کہ سو سال پہلے باہر کے دیشوں کے لوگ انڈیا کے لئے بہن اور بھائی کی حیثیت رکھتے تھے ۔ آج یہ حال ہے کہ خود دیش کے لوگ بھی اب بہن اور بھائی نہیں سمجھے جا رہے ہیں۔ اس ذہن کو نہیں بدلنا ہوگا ورنہ دیش تباہ ہو جائے گا۔
دیشا کے سفر کا شاید سب سے اہم واقعہ مسٹر مدھو مہتا سے ملاقات ہے۔ اس سے پہلے ہم دونوں ایک دوسرے سے بالکل نا واقف تھے۔ دیشا میں پہلی بار ان سے میری ملاقات ہوئی۔ موجودہ ملکی حالات پر باتیں ہوئیں۔ جلسہ میں انھوں نے میری تقریر سنی۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues