۳۲ الٹار نومبر ۱۹۹۳
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۳
ڈاکٹر مہیش شرما نے کہا کہ آج کی سمیا یہ ہے کہ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کا احترام نہیں۔ دوسروں میں بھی وہی ہے جو مجھ میں ہے، یہ دیکھنے کی طاقت لوگوں میں نہیں۔ تمام سمجھدار لوگوں کا کہنا ہے کہ دشمن اگر کوئی ہے تو وہ تمہارے اندر ہی ہے۔ پر اب ہم نے دشمن بدل لئے ہیں۔ اب ہم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دشمن ہمارے اندر نہیں ہے، باہر ہے۔ بھاجپا کا دشمن کانگریس، کانگریس کا دشمن بھاجپا۔ یہ سوچ بدلنا ہوگا۔ اپنے بارہ میں کڑوی بات سننے کی آنکھنی ہونی چاہئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت بھارت میں ٹھٹکی ہوئی حالت ہے۔ ہم ۸۵ کروڑ لوگ آج ٹھٹکے ہوئے ہیں۔ لوگوں کو نہیں معلوم کہ کدھر جائیں ۔
ایک صاحب نے کہا کہ دھرم کو آدھار بنا کر ہندو نے پہلے کام نہیں کیا۔ آج وہ دوسروں کی دیکھا دیکھی کر رہا ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اٹل بہاری باجپئی نے چیتاونی دیتے ہوئے کہا ہے کہ رام کا مندر بننے میں بھارت کا مندر نہ ٹوٹ جائے۔
ایک ہندو ڈیلی گیٹ نے ۱۴ جنوری کی میٹنگ میں کہا کہ کیلاش پربت اور مان سرور جھیل ہندوں نیز بدھوں میں بہت اہم مقدس مقام مانا جاتا ہے۔ (Most important holy site)
ہند و تو اس کو بھگوان شیو کا سورگ مانتے ہیں۔ ہماری اتنی مقدس جگہ پر ۱۹۶۲ میں چین نے حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ لیکن آرایس ایس یا بھاجپا یا ہندو پریشد کے لوگ اس کے خلاف کوئی اندولن نہیں چلاتے۔ اور ایودھیا کے اوپر اتنی دھوم مچاتے ہیں۔ آخر یہ تضاد کیوں۔ ایک صاحب نے کہا کہ رام منوہر لوہیا کہا کرتے تھے کہ دیش کو گرماؤ۔ چنانچہ ہم نے دیش کو گرایا۔ مگر نتیجہ دیکھنے کے بعد اب سمجھ میں آتا ہے کہ لوہیا کا نعرہ ٹھیک نہیں تھا۔ زیادہ ٹھیک نعرہ یہ ہے کہ دیش کو ٹھنڈا کرو۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہمیں کسی بھی حال میں گھمنڈ نہیں کرنا چاہئے۔ ایک وقت تھا کہ کمیونزم (unassailable ideology)
سمجھا جار ہا ہے۔
ایک صاحب گاندھیائی علوم کے ماہر تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ مہاتما گاندھی نے ایک بار اپنے اخبار میں لکھا تھا کہ ہندو مسلم ایکتا دیش کی ترقی کے لئے اتنا زیادہ ضروری
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues