۳۲ الٹار نومبر ۱۹۹۳
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳۵
تھا۔ مگر اس کے آگے ہم اس کو جاری نہ رکھ سکے۔
رام بہادر رائے نے کہا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ نے اگلے دس سال تک کا ایجنڈا طے کر دیا ہے۔ ۶ دسمبر کی گھٹنا نے طے کر دیا ہے کہ اگلے دس سال تک دیش کی بالی فیکس ہندو کے ارد گرد گھومے گی۔ ان کی تقریر ختم ہوئی تو دوسرے ہندو مقرر نے کہا: یہ دیش کے لئے بہت درگھٹنا کی بات ہوگی کہ دیش کا دس سال کا ایجنڈا صرف کوئی ایک دن طے کرے۔ میرا دل ایسی بات ماننے کے لئے تیار نہیں۔
ڈاکٹر راجکمار بھاٹیا اسکول کی زندگی سے آرایس ایس سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے والد آرایس ایس تھے۔ چنانچہ بیٹے بھی آرایس ایس سے وابستہ ہو گئے۔
میں نے ڈاکٹر بھاٹیا سے پوچھا کہ ہندو مسلم تعلق کو نارمل بنانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ انہوں نے کہا کہ دونوں میں (interaction) بڑھایا جائے۔ میں نے کہا کہ اور کوئی عملی چیز جو مسلم سے آپ چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اجودھیا اشو پر آپ لوگ راضی ہو جائیں۔ میں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کافی نہ ہو۔ کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہندو و سنگھن کے لئے اینٹی مسلم فیلنگ ہونا ضروری ہے۔ اس لئے اگر اجودھیا اشو ختم ہو جائے تو آپ لوگ کوئی اور اشو ڈھونڈ کر کھڑا کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ اس کا ثبوت دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جیل کے زمانہ میں مسلمان اور آرایس ایس دونوں دوست بن گئے تھے۔
بی کے رائے، الہ آباد یونیورسٹی میں ہسٹری کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں کمبھ میلے میں گیا۔ وہاں ایک کروڑ سے زیادہ آدمی آتے ہیں۔ گرمی میں دیکھا کہ وہاں کوئی بھوکا نہیں رہتا۔ کسی آدمی کے پاس ایک پیسہ نہ ہو تب بھی اس کو کھانا مل جاتا ہے۔ یہ دھرم کی طاقت ہے۔ ایک صاحب نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ پی اے سی میں افسر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندو دھرم کے مطابق سچائی کمی ہو سکتی ہے اس لئے ہندو ازم کا نباہ تو ہر ایک سے ہو سکتا ہے۔ مگر اسلام کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے مطابق، سچائی صرف ایک ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کا نباہ دوسروں سے کس طرح ہوگا۔
میں نے کہا کہ سچائی گئی ہے محض کہنے کی بات ہے۔ وہ عمل میں آنے والی نہیں۔ اگر وہ کوئی حقیقی
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues