خبرنامه اسلامی مرکز : ۹۱
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۶
خبرنامه اسلامی مرکز : ۹۱
بمبئی میں حلقہ الرسالہ کے کچھ لوگ (نسیم علی خاں صاحب وغیرہ) نے ایک مفید کام شروع کیا ہے۔ یہ کام وہ اسلام پر بچے کیندر کے نام سے کر رہے ہیں۔ یہ مثبت انداز میں اسلامی پیغام پہنچانے کا کام ہے۔ اس کام کی نوعیت اس سے سمجھ میں آتی ہے کہ بمبئی کے شیوسینا کے اخبار سامنا (۱۰ جولائی ۱۹۹۳) میں ایک مضمون چھپا۔ اس کا عنوان تھا : پہلے قرآن پڑھو پھر چلاّؤ۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کے فسادات کا سبب قرآن کی کچھ آیتیں ہیں۔ اسلام پر بچے کیندر والوں نے اس کا براہ راست جواب نہیں دیا۔ البتہ سامنا کے اگلے شمارہ (۲۲ جولائی ۱۹۹۳) میں ایک اشتہار چھپوایا۔ اس میں اعلان تھا کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے قرآن کا ترجمہ اور دوسری کتابیں ہم سے مفت حاصل کریں۔ اس اشتہار کے چھپنے کے بعد تقریباً ۹۰ آدمیوں نے خط یا ٹیلی فون کے ذریعہ رابطہ قائم کیا اور کہا کہ ہم اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ -۲ مسز نچولا ٹرا نے ۲ اگست ۱۹۹۳ کو ہندوستان ٹائمّس کے لیے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق زیادہ تر ریلیجن بل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مذہب بلاشبہ ہر آدمی کا مقدس حق ہے۔ مگر کسی کو یہ اجازت نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ یہ انٹرویو ہندوستان ٹائمّس ۱۵ اگست ۱۹۹۳ میں شائع ہوا ہے۔ -۳ مسلم انٹیلیجنس میٹ کی طرف سے ۸ اگست ۱۹۹۲ کو جے این یونیورسٹی سنٹر (نئی دہلی) میں ایک کنونشن ہوا۔ اس میں علماء اور مسلم دانشور بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کنونشن کا موضوع تین طلاق کا مسئلہ تھا۔ اس موضوع پر وہاں صدر اسلامی مرکز نے ایک تقریر کی۔ اس کی رپورٹ ٹائمّس آف انڈیا انڈیا(۹اگست) اور دہلی کے دوسرے اخبارات میں شائع ہوئی ۔
-۴ آئی وٹنس (Eyewitness) کی نمائندہ مسز نشتھا جین نے ۹ اگست ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع " اسلام میں عورت کا مقام " تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام میں عورت اور مرد کا ورک پلیس بنیادی طور پر الگ الگ رکھا گیا ہے۔ اور یہی اصول حیاتیاتی حقائق کے مطابق ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1993 All issues