ایک تشریح
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۷
ایک تشریح
مشہور حدیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص کسی منکر کو دیکھے تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے اس کو بُرا کہے۔ اور اگر اس کی استطاعت بھی نہ ہو تو دل میں اس کو بُرا سمجھے، اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ برائی پر صبر کرنا رخصت کی بات ہے، وہ مومن کے لیے عزیمت یا اعلیٰ درجہ کی پسندیدہ بات نہیں۔
دوسری طرف قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر فرمایا گیا ہے کہ صبر کرو، کیوں کہ صبر کرنا عزیمت کی بات ہے۔ وہ اولو العزم پیغمبروں کا طریقہ ہے (الاحقاف ۳۵) یہ دونوں باتیں بظاہر ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ پھر ان کے درمیان تطبیق کیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ دونوں حکم الگ الگ موقع کے لیے ہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جو حدیث ہے، اس کا تعلق مسلم سوسائٹی سے ہے۔ اور صبر کی مذکورہ آیتوں کا تعلق غیر مسلموں میں دعوت وتبلیغ سے ۔ دونوں حکموں کا محل ایک دوسرے سے جُدا ہے۔
مسلم معاشرہ کی داخلی اصلاح کے لیے یہ مطلوب ہے کہ ہر مسلمان کے اندر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اسپرٹ موجود ہو۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر زیادتی کرے تو پورا معاشرہ اس کا سخت نوٹس لے۔ لوگ ظالم کا ہاتھ پکڑنے کے لیے دوڑیں ۔ زبان سے اس کی مذمت کریں۔ اور بالفرض کوئی مسلمان ایسا کرنے کی حالت میں نہ ہو تو اس قسم کا واقعہ دیکھ کر اس کے دل میں سخت کراہت پیدا ہونی چاہیے۔ اگر یہ بھی نہ ہو تو ایسے آدمی کا ایمان ہی مشتبہ ہو جائے گا۔
مگر جہاں تک دعوت کے عمومی کام کا تعلق ہے، اس میں عزیمت یہی ہے کہ صبر کیا جائے۔ یہاں مدعو کی زیادتیوں پر صبر کرنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اگر مدعو کی زیادتیوں پر صبر نہ کیا جائے تو داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل فضا ہی نہیں بنے گی جو دعوتی عمل کی صحیح انجام دہی کے لیے ضروری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues