Al-Risala · December 1993 · page 6

انسان جاگ اٹھا

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۶

طرف آپ کا داماد ہے۔ دوسری طرف آپ کا یہ بھتیجا ہے۔ اب آپ کو جو ٹھیک لگے اس کا فیصلہ کر دو۔

مسٹر ساورکر کی بیوی اندر بیٹھی ہوئی اس گفتگو کو سن رہی تھی۔ اس نے اشارہ سے مسٹر ساورکر کو بلایا۔ اندر کچھ باتیں ہوئیں۔ اس کے بعد مسٹر ساورکرباہر آئے تو وہ بدلے ہوئے تھے۔ اتنے میں مسٹر ساورکر کی بیوی اندر سے چائے لے کر آ گئی۔ مسٹر ساورکر چپ چاپ چائے پیتے رہے۔ اس کے بعد کہا کہ اچھا آپ کل آجائیے۔ ہم کل ہی آپ کا فیصلہ کرا دیتے ہیں۔ اگلے دن عبد السلام صاحب وہاں گئے تو مسٹر ساورکر خود اپنی گاڑی پر لے کر انہیں رجسٹرار آفس گئے۔ وہ اثر رسوخ والے آدمی تھے۔ چنانچہ انہوں نے کوشش کر کے اسی دن زمین کی رجسٹری کرا دی۔ عبد السلام صاحب نے صرف طے شدہ رقم ادا کی۔

اس کے بعد مسٹر ساورکر کا یہ حال ہوا کہ جب بھی وہ سڑک پر ملتے تو گاڑی روک کر عبد السلام صاحب کو حسب قاعدہ دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام کرتے اور خیریت پوچھتے۔ ایک روز عبد السلام صاحب اپنے کسی کام سے ہاؤسنگ فائننس بورڈ کے دفتر میں گئے۔ اتفاق سے وہاں مسٹر ساورکر بھی موجود تھے۔ مسٹر ساورکر نے جب عبد السلام صاحب کو دیکھا تو بورڈ کے ٹائریکٹر سے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا : میں نے مسلمان تو بہت دیکھے مگر بڑے آدمی کا جوان باپ ایک ہی بار دیکھا۔ اور وہ یہ عبد السلام ہے۔ اس نے میرے کو بہت بڑا سبق سکھایا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ آدمی اگر کسی سے مقدمہ نہ لڑے تو کورٹ میں اس کی چپلیں بھی گھسنے والی نہیں ہیں۔

مسٹرساورکر اگرچہ آر ایس ایس سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن اس سے پہلے وہ ایک انسان تھے۔ عبد السلام صاحب نے ان سے جب یہ کہا کہ میں آپ کا بھتیجا ہوں اور یہ آپ کا داماد ہے۔ آپ خود ہی ثالث بن کر دونوں کے درمیان فیصلہ کر دو، تو انھوں نے اپنے اس قول نے مسٹر سادر کر کے "انسان" کو جگا دیا۔ اور جب کسی کے اندر کا انسان جاگ اٹھے تو وہ ہمیشہ انصاف ہی کا فیصلہ کرتا ہے۔ کسی کا انسان ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ کرنے پر قادر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page