Al-Risala · December 1993 · page 9

احیاء ملت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۹

احیاء ملت

احیاء امت کا کام اصلاً احیاء افراد کا کام ہے۔ یہ کام اسٹیج کی تقریروں اور جلسہ جلوس کے ہنگاموں کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ اور نہ اس کو جماعتی اور تنظیمی ڈھانچہ بنا کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کام کے لیے خاموش قسم کی فکری مہم درکار ہے جس کو مؤثر ترین سطح پر اٹھایا جائے اور اس کو ہر طرف سے یکسو ہو کر مسلسل چلایا جاتا رہے۔ یہاں تک کہ لوگوں کے اندر مطلوبہ ذہنی انقلاب آجائے۔ امت میں نئی سوچ اور نیا مزاج رکھنے والے افراد پیدا ہو جائیں۔

یہ افراد وہ ہیں جو اسلام کو از سر نو دریافت کریں۔ جن کی معرفت اتنی بڑھے کہ براہ راست خدا سے ان کا اتصال قائم ہو جائے۔ صبح و شام ان کو رزق رب ملنے لگے۔ پوری دنیا ان کے لیے ایمانی غذا کا دستر خوان بن جائے۔ آخرت کا استحضار ان کے اوپر اتنا طاری ہو گویا کہ وہ جنت اور جہنم کو دیکھ رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے کہ ان کی زندگی عمل صالح کا نمومنہ بن جائے۔ وہ اس احساس کے ساتھ بولیں کہ ان کے الفاظ انسانوں تک پہنچنے سے پہلے خدا تک پہنچ رہے ہیں۔ وہ جو کچھ کریں یہ سوچ کر کریں کہ وہ اپنے ہر عمل کے لیے مالک کائنات کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ان کا ایک شخص جب دوسرے شخص کے ساتھ معاملہ کرے تو اس کو نظر آ رہا ہو کہ ان کے ساتھ ایک تیسرا بھی شریک ہے اور وہ اللہ ہے۔

ایمان کے اثر سے ان کا شعور اس طرح جاگ اٹھے کہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھنے لگیں جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ وہ دلیل اور مغالطہ کے درمیان تمیز کرنے لگیں۔ وہ شعوری طور پر جان لیں کہ کب دو چیزوں میں ظاہری مشابہت کے باوجود فرق ہوتا ہے اور کب دو چیزوں میں ظاہری فرق کے باوجود مشابہت۔ وہ عصر کے حالات میں یسر کے سرے کو پالیں۔ وہ اس حقیقت کا ادراک کر لیں کہ مون بننے کے بعد ان کی حیثیت داعی کی ہو چکی ہے اور بقیہ لوگوں کی حیثیت مدعو کی۔ اور جہاں دو گروہوں کے درمیان داعی اور مدعو کی نسبت قائم ہو جائے وہاں سارا معاملہ ایک طرف ہو جاتا ہے۔ کیونکہ مدعو کے اوپر داعی کا کوئی حق نہیں، اس کی صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں جن کو اسے آخری حد تک ادا کرنا ہے اور ان کو ادا کرتے ہوئے اسے اپنے رب تک پہنچ جانا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page