دعوہ کلچر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۰
دعوہ کلچر
اسلامی کلچر حقیقۃ دعوہ کلچر ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اسلام کو گن کلچر کے ہم معنی بناد ہے۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑا جرم ہے جو موجودہ زمانہ کے کچھ نام نہاد انقلابی مفکرین کی رہنمائی میں مسلمانوں کا ایک طبقہ انجام دے رہا ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ مسلمان اقوام عالم کے اوپر رحمت کی بارش برسائیں۔ مگر وہ اقوام عالم کے اوپر آگ کی بارش برسانے والے بنے ہوئے ہیں۔ اس قسم کا عمل خواہ کتنا ہی زیادہ اسلام کے نام پر کیا جائے وہ بلاشبہ باطل ہے ، وہ خدا کے منصوبہ کے سراسر خلاف ہے۔
یہ دنیا کیا ہے۔ دنیا جنتی انسانوں کی انتخاب گاہ ہے۔ قیامت سے پہلے کے مرحلہ میں حسنیٰ انسانوں کا انتخاب کیا جارہا ہے ، قیامت کے بعد کے مرحلہ میں جنتی انسانوں کو جنت کی ابدی آرامگاہوں میں بسایا جائے گا۔ یہ حقیقت قرآن میں آخری حد تک واضح ہے، بشرطیکہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ قرآن پر غور کرے۔
قرآن بتاتا ہے کہ زمین و آسمان اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ اولو الالباب اس کو دیکھ کر آیاتِ خداوندی کا ادراک کر سکیں (آل عمران ۹۱ - ۱۹۰) انسان کو اس لیے تخلیق کیا گیا ہے تاکہ امتحانی حالات میں ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ ان میں سے کون ہے جو جنت کی نفیس فضاؤں میں بسائے جانے کے لائق ہے ( الملک (۲) اللہ کے پیغمبر اس لیے بھیجے گئے تاکہ وہ انسانوں کو ہدایت کا وہ راستہ بتائیں جو انھیں جنت میں لے جانے والا ہے (ابراهیم (۱)
زمین و آسمان کی کائنات اس لیے پھیلائی گئی ہے کہ انسان اس کو دیکھ کر خدا کی بے پناہ کبریائی کو محسوس کرے، وہ خدا کے عظمت و جلال کے احساس سے کانپ اٹھے۔ دنیا میں رنگ اور خوشبو اور راحت اور معنویت کا سیلاب اس لیے بہایا گیا ہے کہ آدمی ان کے اندر خدا کی عنایتوں کو دیکھے، وہ ہمہ تن خدا کی رحمتوں کا طلب گار بن جائے۔ حق کے داعی اس لیے کھڑے کیے گئے ہیں تاکہ ان کا اعتراف کرکے آدمی صاحب معرفت ہونے کا ثبوت دے، وہ حق کی حمایت کرکے خدا کے خصوصی بندوں میں شامل ہوجائے۔ اس مزاج کے تحت جو کلچر بنتا ہے وہ دعوۂ کلچر ہوتا ہے نہ کہ گن کلچر۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues