Al-Risala · December 1993 · page 14

قول سدید

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۴

یہ شعر سراسر سداد قول کے خلاف ہے۔ اس میں درست گفتاری کی صفت نہیں پائی جاتی۔ اور جس قول میں درست گفتاری کی صفت نہ ہو اس سے درست عمل کا ظہور کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔

یہ صحیح ہے کہ حضرت ابراہیم کے لیے آگ ٹھنڈی ہوگئی۔ مگر وہ نبوت کا معاملہ تھا۔ وہ سادہ معنوں میں صرف ایمان کا معاملہ نہ تھا۔ پیغمبر کے لیے اللہ تعالی کی یہ سنت ہے کہ مدعو کے مقابلہ میں اس کی کامل حفاظت کی جائے تاکہ وہ ان کے اوپر اتمام حجت کی حد تک دعوت کا کام کر سکے ۔ حضرت ابراہیم کے لیے آگ کا معاملہ اس سنت الہی سے تعلق رکھتا تھا۔ جب مخالفین نے آپ کو آگ میں پھینک دیا اور آگ آپ کے اوپر ٹھنڈی ہوگئی تو اس کا ٹھنڈا ہونا مذکورہ شعر کے مطابق ”ایمان“ کے زور پر نہ تھا بلکہ خدا کے مخصوص حکم کی بنا پر تھا۔ چنانچہ قرآن میں اس کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے : قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى ابْرَاهِيمَ۔

جس چیز کا تعلق خدا کے خصوصی حکم سے تھا اس کا تعلق اس شعر میں ایمان سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ساری بات بدل گئی۔ اس معاملہ کا صحیح تصور آدمی کو خدا کی قدرت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جب کہ مذکورہ شاعرانہ تصور آدمی کے اندر جھوٹا بھرم پیدا کر کے اس کو بے معنی ٹکراؤ کی طرف لے جاتا ہے۔

اقبال نے حضرت ابراہیم کے معاملے کو ایمان کا معاملہ بتا کر مسلمانوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ ایمان کو لے کر اگر تم آگ میں کو د پڑ و تو آگ تمہارے لیے گلزار ہو جائے گی ۔ بھڑکتے ہوئے شعلے تمہارے ایمان کے زور پر ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔

اس غلط سوچ کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان آج بار بار آگ“ میں کو د رہے ہیں۔ مزید یہ کہ جب آگ انھیں جلاتی ہے تو اپنے غلط ذہن کی بنا پر وہ دوبارہ اس کو دشمنوں کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ حالانکہ اس کو انھیں اپنی اور اپنے رہنماؤں کی نادانی کے خانہ میں ڈالنا چاہیے۔ ایسے ہر تجربہ کو انھیں فریاد کا مسئلہ بنانے کے بجائے نصیحت کا مسئلہ بنانا چاہیے۔ ہر یاد سے جھنجلاہٹ پیدا ہوتی ہے اور نصیحت سے اصلاح۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page