Al-Risala · December 1993 · page 15

بے اصل

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۵

بے اصل

یہود اپنے بارہ میں یہ سمجھنے لگے تھے کہ وہ پیغمبروں کی اولاد ہیں۔ جنت ان کے لیے لکھ دی گئی ہے۔ وہ تمام قوموں میں سب سے افضل ہیں۔ ان کا یہ حق ہے کہ وہ دوسروں کے اوپر حکومت کریں۔ یہ احساس ایک قسم کا مصنوعی غلاف بن کر ان کے ذہن پر چھا گیا۔ ان کی یہ فطری صلاحیت آخری حد تک بجھ گئی کہ وہ کسی حق کو بے لاگ طور پر دیکھیں اور کھلے ذہن کے تحت اس کا اعتراف کریں۔ یہی حال یہود کے بعد دوسری قوموں کا بھی ہو سکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ بعد کی قوم دوبارہ گراوٹ میں مبتلا ہو۔ اور اسی طرح فخر کی نفسیات کی شکار ہو جائے۔ وہ اپنے کو تمام قوموں سے برتر سمجھنے لگے۔ اس کا خیال یہ ہو جائے کہ اس کے لیے جنت میں داخلہ یقینی ہے۔ وہ اس لیے پیدا کی گئی ہے کہ وہ تمام دنیا کے لوگوں پر حکمران بنے۔

اس قسم کے احساسات انتہائی بے اصل ہیں۔ وہ انسانی فطرت سے آخری حد تک غیر مطابق ہیں۔ جو گروہ اس قسم کے احساسات میں جینے لگے اس کے دل و دماغ پر ایک مصنوعی پردہ پڑ جائے گا۔ اس کی فطری صلاحیتیں مرجھا جائیں گی۔ سنجیدگی اور اعتراف اور انصاف پسندی جیسے انسانی اوصاف اس سے چھن جائیں گے۔

فطرت تمام اعلیٰ انسانی اوصاف کی پہلی بنیاد ہے۔ فطرت کی زمین ہی پر ایمان کی اگلی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ فطرت کا زندہ ہونا استعداد کا زندہ ہونا ہے۔ اور جن لوگوں کے اندر استعداد زندہ ہووہی حقائقِ ایمانی کا اعتراف کریں گے، وہی اپنے آپ پر عمل کر کے حیاتِ ربانی کی تعمیر کریں گے۔

اس کے برعکس جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ مصنوعی خیالات ان کی فطرت پر چھا جائیں، وہ صحت فکر اور اعتراف حق سے محروم ہو جائیں گے۔ اور جو لوگ صحت فکر اور اعتراف حق سے محروم ہو جائیں ان کو امتحان کی اس دنیا میں کبھی سچائی کا راستہ ملنے والا نہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ بھٹکتے رہیں، یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page