بے اصل
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۶
دو قسم کے انسان
ایک ہے دلیل سے چپ ہونا، دوسرا ہے طاقت سے چپ ہونا۔ موجودہ دنیا دلیل سے چپ ہونے کا امتحان ہے۔ آخرت وہ دنیا ہے جہاں طاقت کا ظہور آدمی کو چپ کر دے گا۔ مگر دونوں یکساں نہیں۔ دلیل سے چپ ہونے والے آدمی کا نام حق کا اعتراف کرنے والوں کی فہرست میں لکھا جائے گا۔ اور جو لوگ طاقت کے ذریعہ چپ ہوں، ان کا چپ ہونا صرف یہ ثابت کرے گا کہ وہ مجرم تھے۔ وہ دلیل کے آگے نہیں جھکے۔ وہ صرف اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے پر مجبور کر دیے گئے تھے۔
وہب بن منبہ تقدیر کے قائل تھے۔ کسی مخالف نے جھوٹا قصہ بنا کر ان کے بارہ میں مشہور کر دیا کہ وہ تو کہتے ہیں کہ قوم لوط اپنے اعمال بد کی جواب دہ نہیں، کیوں کہ یہ تو خود خدا تھا جس نے قوم لوط کے افراد کو ایک دوسرے کے اوپر سوار کیا۔ طاؤس کو یہ خبر پہنچی تو وہ وہب بن منبہ سے ملے اور کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ ایسا اور ایسا کہتے ہیں۔ وہب بن منبہ نے اس کو سن کر کہا : اعوذ باللہ۔ اس کے بعد دونوں چپ ہو گئے اور بات ختم ہو گئی (اسلامی زندگی، ۸۸) راقم الحروف کی ملاقات 1966 میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ہوئی۔ ان کا نام ڈاکٹر سمیع اللہ خاں تھا۔ وہ ملحد تھے مگر نہایت سنجیدہ مزاج آدمی تھے۔ مذاہب پر گفتگو کے دوران انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ خدا کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کرائٹیرین (criterion) 1 کیا ہے۔ میں نے جواب میں کہا : وہی کریائٹیریا جو آپ کے پاس کوئی چیز ثابت کرنے کے لیے ہو۔ اس کے بعد نہ انھوں نے کچھ کہا اور نہ میں نے۔ بس انھیں دو جملوں پر بات ختم ہو گئی۔ مذکورہ واقعات میں طاؤس دلیل نقلی کے زور پر چپ ہوئے تھے اور ڈاکٹر سمیع اللہ خاں دلیل عقلی کے زور پر چپ ہو گئے۔ اسی کا نام اعتراف ہے، اور اعتراف بلاشبہ موجودہ امتحان کی دنیا کا سب سے بڑا عمل ہے۔
جو لوگ نہ نقلی دلیل پر چپ ہوں اور نہ عقلی دلیل پر، وہ حیوان کی مانند ہیں۔ وہ اس نعمت سے ہمیشہ محروم رہیں گے جس کو اعتراف کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues