غصّہ کا انجام
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۳
غصّہ کا انجام
دہلی میں قرول باغ کے علاقہ میں اجمل خاں روڈ ہے۔ یہاں ایک ساتھ جوتے کی دو دکانیں تھیں۔ ایک دکان کے مالک کا نام سریندر کمار (۲۵ سال) ہے اور دوسری دکان کے مالک کا نام بلراج ارورا (۴۵ سال)۔ ایک ہفتہ پہلے سریندر کمار کی دکان سے ایک شخص نے ایک جوڑا جوتا خریدا۔ دکاندار نے اس کی قیمت ۱۸۰ روپے حاصل کی۔ گاہک باہر نکلا تو دوسرے دکاندار بلراج ارورا نے اس کو آواز دے کر بلایا۔ اس کا جوتا دیکھ کر پوچھا کہ اس مسوم نے کتنی قیمت میں خریدا۔ اس نے بتایا کہ ۱۸۰ روپے میں۔ بلراج ارورا نے اسی قسم کا جوتا اپنی دکان سے نکال کر دکھایا اور کہا کہ دیکھو، یہ وہی جوتا ہے اور یہ میں تم کو صرف ۱۲۵ روپے میں دے سکتا ہوں (دی پائیونیر ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۲)
گاہک غصّہ ہوگیا۔ وہ جوتا لے کر دوبارہ سریندر کمار کے یہاں آیا اور کہا کہ تم نے قیمت زیادہ لی ہے۔ مجھ کو ۵۰ روپے واپس کرو۔ اس پر سریندر کمار بگڑ گیا۔ اور پڑوس کی دکان پر جا کر بلراج ارورا کو ڈانٹنے لگا۔ کچھ لوگوں نے درمیان میں پڑ کر فوری طور پر دونوں کو اپنی اپنی دکان میں واپس بھیج دیا۔ مگر غصّہ بدستور باقی رہا۔ یہاں تک کہ ایک ہفتہ بعد ۱۳ اکتوبر ۱۹۹۲ کو سریندر کمار نے بلراج ارورا سے تیز تیز باتیں کیں، اور آخر کا جیب سے ریوالور نکالا اور ایک کے بعد ایک چھ گولیاں اس کے اوپر خالی (32 bore Smith and Wesson)
کر دیں۔ بلراج ارورا کو فورا ہسپیٹل لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دیا۔ اب قاتل کا معاملہ عدالت میں ہے۔ اب یا تو مقتول کی طرح قاتل کو بھی پھانسی پر لٹکایا جائے گا یا قاتل لاکھوں روپیہ خرچ کر کے مقدمہ کو اپنے موافق بنائے اور عدالت سے رہائی کا فیصلہ حاصل کرلے۔ ایک صورت اگر قاتل کے لیے جسمانی موت ہے تو دوسری صورت اس کے لیے مالی موت۔ قاتل اگر غصّہ اور انتقام سے مغلوب نہ ہوتا تو بہت آسانی کے ساتھ وہ سمجھ سکتا تھا کہ اس کے لیے زیادہ بہتر صورت یہ ہے کہ وہ مذکورہ گاہک کو ۵۰ روپیہ ادا کر کے اسے رخصت کر دے اور پھر جہاں تک پڑوسی دکاندار کا مسئلہ ہے، اس کو تجارتی انداز میں حل کرنے کی کوشش کرے۔ رسل فروری ۱۹۹۳
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues