Al-Risala · December 1993 · page 18

بمبئی کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۸

یہ یہ حال ہے کہ ان میں زیادہ تر ایسی خبریں اور ایسے مضامین ہوتے ہیں جن میں کوئی سبق نہ ہو۔ یہ گویا نمک کے پہاڑ ہیں جن میں شکر کے کچھ ذرات مل جاتے ہیں جن کو ڈھونڈ کر نکالنا پڑتا ہے۔ انگریزی شاعر کے الفاظ میں "پانی پانی ہر طرف ، مگر پینے کے لئے ایک قطرہ نہیں: Water, water everywhere. Nor a drop to drink. جہاز میں ایک ہندو سائنٹسٹ سے ملاقات ہوئی۔ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ وہیں ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہوگئے تھے۔ پھر انھیں خیال آیا کہ اپنے دیش جائیں اور وہاں سائنسی علوم کو ترقی دیں۔ مگر یہاں آنے کے بعد انھیں بہت تلخ تجربہ ہوا۔ انھوں نے پایا کہ یہاں کے تمام سائنس داں کیرپیسٹ سائنس داں (careerist scientists) ہیں۔ وہ اپنے سوا کسی کو آگے بڑھنے نہیں دیتے ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنے حوصلہ شکن تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ اب میں دوبارہ امریکہ چلا جاؤں گا۔ کیوں کہ انڈیا میں میرا کوئی مستقبل نہیں: I will go back to the States, as there would hardly be any future for me in جس ملک میں خود اس ملک کے اپنے دماغ مایوس ہو جائیں، وہ ملک گویا کہ خود اپنے معماروں سے محروم ہوگیا ۔ ڈیڑھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ ایک وکیل صاحب سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ عدالت میں جب جج کے سامنے مقدمہ پیش ہوتا ہے تو ایک طرف ہم ہوتے ہیں اور دوسری طرف ہمارا مخالف وکیل ۔ اس وقت ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم ایسی بات کہیں جس سے ہمارا مخالف مشتعل ہو جائے ۔ اگر کسی طرح ہم نے اس کو مشتعل کر دیا تو اس کے بعد ہماری کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مشتعل آدمی کا ذہن ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ غیر متاثر ذہن کے تحت معاملہ کے تمام پہلوؤں پر دھیان دے سکے۔ اس کا ذہن اصل معاملہ سے ہٹ کر حریف کی شخصیت کی طرف چلا جاتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غیر متعلق باتیں کرنے لگتا ہے۔ متعلق باتیں اس کی پکڑ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ اور جس آدمی کا یہ حال ہو جائے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page