بمبئی کا سفر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۱۹
وہ کبھی مقابلہ کے میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
میں نے کہا کہ اسی کا نام صبر ہے۔ ایک ہے عاجلانہ فکر، دوسری ہے صابرانہ فکر۔ عاجلانہ فکر وہ ہے جب کہ آدمی ردِ عمل میں مبتلا ہو کر سوچے ۔ صابرانہ فکر یہ ہے کہ آدمی فریقِ ثانی کی اشتعال انگیزی سے غیر متاثر رہے۔ وہ آزادانہ سوچ کر اپنے عمل کا رخ متعین کرے ۔ آج ۳۱ جنوری کو بمبئی ایئرپورٹ پر ایک حادثہ پیش آیا۔ برٹش ایئرویز کا ایک جہاز (747 Boeing) بمبئی سے لندن کے لئے روانہ ہوا۔ مگر ایک گھنٹے کے اندر دوبارہ وہ بمبئی واپس آگیا۔ اس کے اوپر عملہ کے ۱۸ لوگوں کو ملا کر کل ۳۷۲ عورت اور مرد سوار تھے ۔ واپسی کی وجہ یہ ہوئی کہ فضا میں بلند ہونے کے بعد جہاز کے پائلٹ نے پایا کہ اس کا ایک انجن جنریٹر(engine (engine generator) فیل ہو گیا ہے۔ اب جہاز کو آگے لے جانا اس کو منزل کی طرف لے جانا نہیں تھا بلکہ اس کو تبا ہی کی طرف لے جانا تھا، اس لئے پائلٹ نے پیچھے کی طرف واپسی کا فیصلہ کیا۔ آگے بڑھنا بہت اچھی بات ہے۔ مگر اس دنیا میں کبھی پیش قدمی کو روک کر پیچھے کی طرف واپس جانا آدمی کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی کمیوں کو درست کر کے دوبارہ پیش قدمی کے قابل ہو سکے۔ جب کہ اس وقت آگے بڑھنے کا مطلب عملی طور پر یہ بن جاتا ہے کہ اپنے وجود ہی کا خاتمہ کر لیا جائے۔ بمبئی ایئر پورٹ پر یہاں کے کئی احباب موجود تھے۔ ان کے ساتھ شہر کے لئے روانگی ہوئی۔ ۳۱ ۳۱ جنوری ۱۹۹۳ کو فجر کی نماز میں نے نظام الدین کی کالی مسجد میں پڑھی تھی۔ اور اسی دن ظہر کی نماز کے وقت میں بمبئی پہنچ چکا تھا۔ جب کہ دہلی اور بمبئی کے درمیان تقریباً ۱۵۵۰ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک واقعہ وہ گزرا جس کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے:— پاک ہے وہ اللہ جو ایک رات اپنے بندے کو مکہ کی مسجدِ حرام سے دور کی مسجدِ فلسطین، تک لے گیا جس کے ماحول کو ہم نے با برکت بنایا ہے تاکہ اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ (الاسراء)
"اسراء" کے اس معاملہ پر سوچتے ہوئے خیال آیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ کا شاید ایک پہلو یہ بھی ہو کہ تاریخ میں آپ ایک ایسے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues