Al-Risala · December 1993 · page 24

Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۴

اس قابل ہیں کہ ان کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ان کی بنیاد پر ہندستانی مسلمانوں کے بارہ میں رائے بنانا صحیح نہیں۔

ٹائمس آف انڈیا کے اسپیشل کرسپانڈنٹ مسٹر ایلون فرنانڈیز (Allwyn Fernandes) نے مفصل انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ریجنسی ہوٹل کے کمرہ ۳۰۵ میں ریکارڈ کیا گیا۔ ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ ۲ فروری ۱۹۹۳ میں یہ انٹرویو شائع ہو چکا ہے۔

سوالات زیادہ تر مسلمانوں کے مسائل کے بارہ میں تھے۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ ہندو اور مسلمان دونوں کو ایک بات واضح طور پر جان لینا چاہئے کہ جب مختلف لوگ مل کر ایک سماج میں رہتے ہیں تو لازماً ایسا ہوتا ہے کہ کبھی ایک کو دوسرے سے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے۔ ایسا ہمیشہ ہوتا ہے۔ اور وہ ہر سماج میں ہوتا ہے خواہ وہ انڈیا کا معاملہ ہو یا اور کسی ملک کا معاملہ۔ ایسی حالت میں کیا کرنا ہے۔ ایسی حالت میں کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو لاؤنڈ کریں ۔

جنرل ایس کے سنہا (۶۷ سال، پٹنہ کے رہنے والے ہیں ۔ ان سے یہاں ملاقات ہوئی ۔ ۲ فروری کی ملاقات میں میں نے کہا کہ آپ لمبی مدت تک فوج میں رہے ہیں۔ اپنی فوجی زندگی کا کوئی واقعہ بتائیے ۔

انھوں نے کہا کہ ۷ ۴ ۱۹ سے پہلے انگریزوں کے زمانہ میں جو فوج تھی وہ آج سے بہت مختلف تھی ۔ اس میں زہر دست یکڑ کر پایا جاتا تھا ۔ ۱۹۰۴ میں لارڈ کرزن وائسرائے تھے۔ کلکتہ میں انگریزوں کی ایک بٹالین تھی۔ اس میں ایک ہزار انگریز سپاہی تھے۔ ان میں سے کچھ انگریز کلکتہ کی ایک کینٹین میں کھانا کھانے کے لئے گئے۔ ہندستانی ملازم نے کھانا لانے میں کچھ دیر کی۔ ایک انگریز سپاہی جو شراب پئے ہوئے تھا غصہ میں آگیا۔ اس نے ہندستانی ملازم کو گھونسا ماردیا۔ اتفاق اتفاق سے وہ مر گیا۔ یہ واقعہ اخبار میں چھپ کر کافی مشہور ہوا۔

اس کے بعد یہ کیس فوج کی کورٹ آف انکوائری میں آیا۔ انگریز فوجیوں نے طے کیا کہ وہ گواہی نہیں دیں گے اور یہ کہہ دیں گے کہ ہم کو نہیں معلوم کہ کس نے گھونسا مارا۔ آخر کار قاتل کا ثبوت نہ مل سکا۔ فوجی ذمہ داروں نے وائسرائے کو لکھ کر بھیج دیا کہ قاتل کا پتہ نہیں چل رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page