Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲۳
ڈاکوؤں کے حوالے کر دی۔
آخر میں ڈاکوؤں کے سردار نے حاصل شدہ رقم کو گنا تو وہ کل سات ہزار تھی۔ اس نے کہا کہ اس میں تو ہم کو گھاٹا ہو جائے گا۔ کیوں کہ ہمیں دس ہزار روپیہ تو پولیس کو دینا ہے۔ چنانچہ اس نے تمام کی تمام رقم مسافروں کو دوبارہ واپس کر دی۔
۳۱ جنوری ۱۹۹۳ کی شام کو ۵ بجے گورنر ہاؤس میں مہاراشٹر کے گورنر پی سی الیگزینڈر (P.C. Alexander) سے ملاقات ہوئی۔ اس میں میرے علاوہ اچاریہ منی سوشیل کمار، سوامی چیدانند، مدھو مہتا، جسٹس دھرم ادھیکاری، انا ہزارے اور دوسرے کئی لوگ شریک تھے۔ گورنر صاحب نے کہا کہ انھوں نے میرے کچھ انگریزی مضامین پڑھے ہیں اور شانتی یاترا کا ٹیپ دیکھا ہے۔ اس سے وہ کافی متاثر ہیں۔ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جو سنگین مسئلہ ہے اس کو پولیٹیکل لوگ حل نہیں کر سکتے۔ اس کو صرف مذہبی اور روحانی شخصیتیں ہی حل کر سکتی ہیں۔ اس ملاقات کی رپورٹ راج بھون پریس ریلیز کے تحت بمبئی کے اخبار ٹائمس آف انڈیا یکم فروری ۱۹۹۳) میں چھپی۔ اس میں یہ صراحت بھی تھی کہ یہ ملاقات خود گورنر کی درخواست پر ہوئی : Various religious leaders and prominent citizens met the governor at Raj Bhavan at his request. (p.3)
یکم فروری کی شام کو مسٹر مدھو مہتا کی قیام گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ بمبئی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر میں نے خطاب کیا۔ خطاب کے دوران میں نے کہا کہ لوگ اجودھیا کو پرابلم بنائے ہوئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اجودھیا کو سبق اور نصیحت کا واقعہ بنا دیا جائے۔
یہاں سوال و جواب بھی ہوئے۔ ایک نوجوان راہل شرما (Rahul Sharma) نے کہا کہ مسلمان اپنے آپ کو پاکستان کے ساتھ آئیڈنٹیفائی کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق یہ بات صحیح نہیں ہے۔ یہاں شاید کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو اپنے آپ کو پاکستان کے ساتھ آئیڈنٹیفائی کرتا ہو۔ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ میچ میں کچھ مسلمان لڑکے بعض طفلا نہ حرکتیں کرتے ہیں۔ میں اس قسم کی حرکتوں کو لغو سمجھتا ہوں۔ مگر وہ صرف
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues