Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۲
اور ڈپٹی کمشنر آر ایس راٹھور (R. S. Rathod) اور دوسرے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ عام طور پر لوگ پولیس کی شکایت کرتے ہیں۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ پولیس کے لوگ بھی دوسرے انسانوں کی طرح انسان ہی ہوتے ہیں۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ اس کو چھیڑیں تو وہ غصہ میں آجاتا ہے۔ حتی کہ مقدس بزرگ بھی۔ جب آدمی کسی کے اوپر غصہ ہوتا ہے تو وہ اس کے خلاف ہر کارروائی کر گزرتا ہے جو اس کے بس میں ہے۔ جس آدمی کے پاس کنکر ہے وہ کنکر پھینک کر مارے گا۔ اور اگر بندوق ہے تو وہ بندوق چلائے گا۔ گویا کہ یہ معاملہ وہ ہے جس کی بابت فارسی شاعر نے کہا کہ : ایں گناہ است کہ درشہر شما نیز کنند۔
مسٹر آر ایس راٹھور بمبئی پولیس میں ڈپٹی کمشنر ہیں۔ ان کی فرمائش پر ۳ فروری کی شام کو ان کے یہاں کھانا کھایا۔ کھانا، فرنیچر، مکان، ہر چیز میں سادگی تھی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ وہ صرف تنخواہ پر گزارہ کرتے ہیں۔ واقعہ بھی یہی ہے کہ وہ عام پولیس افسروں سے بہت مختلف ہیں۔ کھانے کے دوران انھوں نے کئی قصے بتائے۔ ایک یہ تھا کہ ۱۹۷۷ء میں جب جنتا گورنمنٹ نے اندر اگاندھی کو گرفتار کیا، اس وقت وہ پربھنی میںپولیس افسر تھے۔ اس وقت شہر میں دو جلوس نکلے۔ ایک کانگریس پارٹی کا جو حکومت کے خلاف بطور احتجاج تھا۔ دوسرا جنتا پارٹی کا جو حکومت کی حمایت میں تھا۔ دونوں ایک ہی سڑک پر مخالف سمتوں سے آرہے تھے۔ اس سے ظاہر تھا کہ ایک پوائنٹ پر پہنچ کر دونوں میں ٹکراؤ ضروری ہے۔
دونوں طرف ہزاروں آدمی تھے اور دونوں ہی جوش سے بھرے ہوئے تھے۔ مسٹر راٹھور وردی میں ملبوس ہو کر موقع پر پہنچے۔ انھوں نے جلوس کا مائک اپنے ہاتھ میں لے لیا اور تقریر شروع کی۔ انھوں نے کہا کہ میرے پاس یہاں کافی فورس موجود ہے۔ اگر آپ لوگ تشدد کرتے ہیں تو میں بھی تشدد کروں گا اور فوراً فائرنگ کا آرڈر دے دوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ جلوس میں بہت سے معصوم (Innocent) لوگ ہیں۔ اگر فائٹنگ ہوئی تو سب سے پہلے یہی معصوم لوگ مریں گے۔ اس لئے میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ اگر وہ اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو فوراً یہاں سے چلے جائیں۔
اس اعلان کے بعد آدھے سے زیادہ لوگ جلوس سے نکل کر چلے گئے۔ اس کے بعد جلوس
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues