Al-Risala · December 1993 · page 3

Madhu Mehta is the champion of unpopular causes.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۳

والے اتنا پریشان ہوائے کہ انھوں نے راستہ بدل دیا اور کسی ٹکراؤ یا ایکشن کی نوبت نہیں آئی۔ ۲ فروری کو مسٹر مدھو مہتا کی رہائش گاہ پر جنرل سنہا اور راما کرشنن (S. Ramakrishnan) سے ملاقات ہوئی۔ مسٹر راما کرشنن نے میری کل کی تقریر کے بارہ میں کہا کہ اس کو سن کر مجھے ایسا لگا جیسے کوئی رشی بول رہا ہے۔ آپ کے شبد ہونٹوں سے نہیں بلکہ دل سے نکل رہے تھے۔ مسٹر راما کرشنن ایک بہت بڑا مشن چلا رہے ہیں۔ اس کا نام دی ڈیوائن لائف سوسائٹی ہے۔ انھوں نے اپنی سوسائٹی کی چھپی ہوئی کئی کتابیں دیں جو اخلاق اور روحانیت کی تعلیمات پر مبنی تھیں۔ انھوں نے راج گوپال اچاری کے کئی واقعات بتائے۔

راج گوپال اچاری کے متعلق میرا خیال ہے کہ مہاتما گاندھی کے بعد وہ پورے ملک میں سب سے زیادہ قابل اور لائق آدمی تھے ۔ ۱۹۴۷ کے بعد اگر وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ہوتے تو شاید ملک کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔

مسٹر پرتاپ بھوگی لال بمبئی کے ایک صنعت کار ہیں، فون نمبر 3623688 ) ان کی رہائش گاہ پر ۲ فروری کی شام کو مغرب بعد ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تقریباً چالیس لوگ شریک ہوئے۔ وہ زیادہ تر ممتاز تجارتی افراد تھے۔ اس موقع پر میں نے سہ نکاتی فارمولے کی وضاحت کی نیز یہ بتایا کہ موجودہ ملکی مسائل کا حل کیا ہے۔ آخر میں سوال و جواب ہوا۔ ۲ فروری کو مسٹر آشیش شاہ (Ashish Shah) نے نہایت تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو مڈڈے (Mid-day) کے لئے تھا۔ وہ مڈڈے کے شمارہ ۳ مئی ۱۹۹۳ میں شائع ہو چکا ہے۔

مسٹر ہرندر دوے ایک گجراتی اخبار جنم بھومی (جاری شده ۱۹۳۴) کے ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے اپنے اخبار کے لئے تفصیلی انٹرویو لیا۔ وہ اشعار کا بھی ذوق رکھتے ہیں۔ انھوں نے موجودہ ملکی لیڈر شپ پر سلام مچھلی شہری کا ایک شعر سنایا:

سمندر تیز طوفانی ہو ٹوٹی ہوئی کشتی یہی اسباب کیا کم تھے کہ اس پر نا خدا تم ہو ۔ مسٹر ہرندردوے روحانی مزاج کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں پرارتھنا بھی کرتا ہوں تو بھگوان سے یہ کہتا ہوں کہ جو بھی اچھی بات میرے لئے ہو اس کو آپ میرے لئے کر دو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page