Al-Risala · February 1993 · page 9

اعتراض برائے اعتراض

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۹

اعتراض برائے اعتراض

۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو غالب اکیڈمی (نئی دہلی) میں ایک سمپوزیم تھا۔ اس کا موضوع تھا : مذہب فرقہ پرستی کی تعلیم نہیں دیتا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ خود خدا کی تخلیق ایکم کے تحت اس دنیا میں آزادانہ مسابقت جاری ہے۔ اسی مسابقت کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ بار بار ایک اور دوسرے کے درمیان اختلاف اور ٹکراؤ کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ عین فطری ہے اور وہ ہمیشہ اس دنیا میں باقی رہے گی۔ ایسی حالت میں پر امن زندگی گزارنے کی تدبیر صرف ایک ہے، اور وہ اعتراض ہے۔ یعنی زندگی کی سرگرمیوں میں جب بھی ایسا ہو کہ ایک اور دوسرے کے درمیان ٹکراؤ کا اندیشہ پیدا ہو تو وہاں اعتراض کے اصول پر عمل کیا جائے۔ اس طرح علی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئے گی اور ہر ایک کے لیے محفوظ طور پر اپنی زندگی کی تعمیر ممکن ہو جائیگی۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ آپ نے سڑکوں پر دیکھا ہو گا کہ جگہ جگہ اس مضمون کا بورڈ لگا رہتا ہے کہ فاصلہ پر رہو (keep distance) اس ٹرافک اصول کو اختیار کرنے کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ سڑک پر پیک وقت بہت سی سواریاں دوڑیں، پھر بھی ان کے درمیان حادثہ کے واقعات پیش نہ آئیں۔ اسی اصول کو ہمیں عام زندگی میں بھی اختیار کرنا ہے۔

تقریر کے خاتمہ پر سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے ’’فاصلہ پر رہو‘‘ کے جس اصول کی تلقین کی ہے اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں الگ الگ خانوں میں بٹ جائیں اور ایک دوسرے سے بے تعلق ہو کر زندگی گزاریں۔ ایسا کرنے کے بعد تو ہندوستان میں ہمارے مسائل اور زیادہ بڑھ جائیں گے ۔ میں نے کہا کہ ’’فاصلہ پر رہو‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ الگ الگ زندگی گزارو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نزاع کی صورت پیش آنے پر ٹکراؤ سے بچو۔ سڑک پر اس مضمون کے بورڈ کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ لوگ اپنی گاڑیاں گھروں پر کھڑی رکھیں، وہ ان کو سڑک پر نہ چلائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ چلتے ہوئے جب بھی ٹکراؤ کا اندیشہ ہو تو اپنی گاڑی کنارے کر لیں۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی اگر سنجیدہ نہ ہو تو وہ سیدھی بات کا بھی الٹا مطلب نکال سکتا ہے ۔ ارسا ل فروری ۱۹۹۳

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page