Al-Risala · February 1993 · page 10

اعتراض برائے اعتراض

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۰

ایک مثال

مالیگاؤں کے فساد کے بارے میں دہلی کے ایک اردو ماہنامہ (افکار ملی ستمبر ۱۹۹۲) میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس کا خلاصہ خود اسی کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے : "مالیگاؤں میں ۱۹ جولائی ۱۹۹۲ کو فرقہ وارانہ فساد کی آگ بھڑک اٹھی۔ اس فساد میں تین کروڑ روپے کی مالیت لوٹی گئی یا اسے جلا دیا گیا۔ تین مسلمان جاں بحق ہو گئے۔ ۱۲۵ سے زائد افراد زخمی ہو کر ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ کاروبار بند ہونے کی باعث یہاں کی آبادیاں، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، مایوسی اور افسردگی کی شکار نظر آتی ہیں۔ یومیہ مزدوری، بھوک مری کے اندیشہ میں مبتلا ہے اور تاجر پیشہ افراد اقتصادی مشکلوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ۱۹ جولائی کو بابری مسجد کے مسئلہ پر اپنے غم و غصہ کے اظہار کے لیے مسلمانوں نے اپنے کاروبار اور دکانیں بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ "بابری مسجد بچاؤ تحریک کے ضمن میں مقامی جنتا دل کے ایم ایل اے جناب نہال احمد نے مسجد کے تحفظ کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل دینے کے بعد ۱۸ جولائی کی شب میں قدوائی روڈ پر ایک جلسہ عام منعقد کیا اور ۱۹ جولائی کو مالیگاؤں بند کرنے کے اعلان کے ساتھ احتجاجی جلوس کے اہتمام کا اعلان بھی کر دیا۔ عام طور پر مسلمانوں میں اس تجویز کا پُرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ شہر میں موجودہ فرقہ وارانہ کشیدگی کا نقطہ آغاز یہی تھا۔ دوسرے دن ۲۵ - ۳۰ ہزار افراد پر مشتمل ایک مورچہ (احتجاجی جلوس) جناب نہال احمد کی قیادت میں قلعہ کے پاس سے نکلا۔ مگر یہ مورچہ موسم پل تک بھی نہیں پہنچا ہو گا کہ انتشار و اشتعال کا شکار ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک غیر مسلم فوٹو گرافر نے مورچہ میں شامل چند مسلمانوں کے منع کرنے کے باوجود تصویریں کھینچنے کا کام بند نہیں کیا تو اس سے کیمرہ چھینے کی کوشش کی گئی۔ اس چھینا جھپٹی کے دوران پولیس کے آدمی وہاں پہنچ کر معاملہ کو رفع دفع کر رہے تھے کہ جلوس کے کچھ افراد نے سنگ باری شروع کر دی اور پھر وہیں سے عمل اور رد عمل کا ہولناک سلسلہ شروع ہو گیا" برداشت والے لوگ اگر جلوس نکالیں تو اس کا نام مظاہرہ ہے۔ اور بے برداشت لوگ اگر جلوس نکالیں تو اس کا نام فساد۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page