درد ناک انجام
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۱
درد ناک انجام
ہندوستان ٹائمنز (۳۰ نومبر ۱۹۹۲) میں ایک درد ناک واقعہ چھپا ہے۔ اس کی سرخی رپورٹر نے ان الفاظ میں قائم کی ہے ۔ فتح کے بعد ٹریجڈی :
Tragedy after the triumph
یہ لفٹننٹ سندیپ لمبا کا قصبہ ہے۔ وہ ۲ ستمبر ۱۹۶۵ کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دہلی کے خالصہ کالج میں حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی یو نی ورسٹی سے بی ایس سی کی ڈگری لی۔ اپنی اسپورٹ آف ایڈو پنچر“ کے تحت وہ ڈیفنس سروس میں بھرتی ہو گئے ۔ ایڈو پنچر والے کھیلوں (adventure sports) میں انھوں نے امتیاز حاصل کیا، وہ ترقی کرتے ہوئے لفٹننٹ کے عہدہ پر پہنچ گئے۔
نومبر ۱۹۹۲ میں وہ اپنی ترقی کی انتہا پر تھے۔ انھیں پہاڑوں کی چڑھائی (mountaineering) کا شوق تھا۔ ایک فوجی ٹیم لے کر انھوں نے ۱۸ اگست ۱۹۹۲ کو گڑھوال کی ایک چوٹی (Abi Gamin Peak) پر چڑھائی شروع کی۔ یہ چوٹی ۲۱,۰ میٹر اونچی ہے۔ لفٹننٹ لمبا چڑھتے رہے ۔ یہاں تک کہ وہ اس کی آخری اونچائی پر پہنچ گئے۔ رپورٹر کے الفاظ میں، ان کے حناترہ کا وقت خود چوٹی پر آ گیا جب کہ وہ اس کے اوپر فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ عین اس وقت برف کا ایک ریلا آیا اور وہ ہزاروں فٹ نیچے موت کے گڑھے میں گر گئے : His end came at the summit itself, soon after he had stood there with a triumphant smile. The snow pack on the summit gave way and he fell to his death thousands of feet down below. (p.12)
یہ کسی ایک آدمی کا قصہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر آدمی کی کہانی لفٹننٹ لمبا کی کہانی ہے۔ یہاں ہر آدمی اپنے دائرہ میں زندگی کا سفر شروع کرتا ہے۔ وہ محنت کرتے کرتے اپنی ترقی کی آخری حد پر پہنچ جاتا ہے۔ عین اس وقت موت کا فرشتہ آتا ہے اور اس کو بڑائی کی چوٹی سے اٹھا کر پستی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ اس المناک انجام (tragic end) سے مستثنیٰ صرف وہ شخص ہے جو خدا کا تابعدار ہو۔ جو ربانی زندگی گزارتا ہوا اپنے آخری انجام تک پہنچے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues