They are killing the spirit of India.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۵۰
خاموش بیٹھا ہوا تھا ، ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ کسی بھی طرف سے گولی آسکتی ہے اور یہیں میرا خاتمہ کرسکتی ہے ۔ مگر اللہ کا شکر ہے کہ میرے دل میں اس وقت ذرا بھی گھبراہٹ نہیں تھی ۔ جلسہ ختم ہوتے ہی ، اسٹیج کا پردہ اس کے ذمہ داروں نے کھینچ دیا ۔ اس کے بعد دو پولیس افسر میرے دائیں اور بائیں آگئے ۔ وہ باہر گاڑی میں سوار ہونے تک مسلسل میرے ساتھ رہے ۔
۲۰ فروری کی شام کو میں مسٹر افضل الانہ کی گاڑی میں ائیر پورٹ جانے کے لئے بیٹھا ۔ عین اسی وقت دو ہندو نوجوان گاڑی میں داخل ہوئے اور میرے دائیں اور بائیں بیٹھ گئے۔ یہ دونوں میرے لئے نئے تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ ہم آپ کی حفاظت کے لئے یہاں بیٹھے ہیں۔ ایک نوجوان نے کہا: مولانامجی ، یری کوئی آپ پر گولی چلاتا ہے تو وہ گولی پہلے ہمارے سینہ کو چھید ے گی۔ اس کے بعد ہی وہ آپ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ لوگ ائیر پورٹ کے دروازہ تک میرے ساتھ رہے۔ شام کو فلائٹ نمبر ۱۸۳ ا کے ذریعہ بمبئی سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی ۔ کسی قدر لیٹ ہو کر جہاز نے 9 بجے بمبئی سے پرواز شروع کی ۔ راستہ میں چند اخبار ہندی اور انگریزی کے دیکھے۔ ہندی اخبار سندھیہ ٹائمس (۲۰ فروری ۱۹۹۳) میں ایک تفریحی کالم ہوتا ہے ۔ اس کا عنوان ہے: اٹ پٹے سوال، چٹ پٹے جواب۔ اس کے دو سوال و جواب اس طرح تھے:
سوال: جب دنیا کے سارے راستے بند ہو جاتے ہیں تو اس وقت راستہ کون دکھاتا ہے۔ جواب: ہمت۔
سوال : یہ تو سبھی کو معلوم ہے کہ محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔ مگر ایک دہاتنے کو شکایت ہے کہ لگاتار پانچ ورشوں کی کڑی محنت کے بعد بھی پھل کڑوا ملا ۔ یہ کیا ماجرا ہے۔
جواب: پانچ سال میں محنت سے کریلے ہی بوئے ہوں گے۔
۲۰ فروری ۱۹۹۳ کی رات کو میں دہلی واپس پہنچا ۔ تاخیر کا سبب یہ تھا کہ جہاز غیر معمولی طور پر کئی گھنٹہ لیٹ ہوگیا۔ مگر مجھے ذاتی طور پر اس کا نقصان نہیں ہوا۔ کیوں کہ مجھے اس کی اطلاع بمبئی میں پیشگی طور پر مل گئی تھی اور میں نے اس وقت کو بمبئی میں استعمال کر لیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues