Al-Risala · December 1993 · page 49

They are killing the spirit of India.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۳، صفحہ ۴۹

اپنی تقریر ان الفاظ پر ختم کی: یا تو بھائیوں کی طرح زندگی گزاریے یا جانوروں کی طرح مرجائیے۔ Live as brother or die as animals. میں نے اپنی تقریر میں تین نکاتی فارمولے کی تشریح کی۔ آخر میں اچاریہ سوشیل کمار مائک پر آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ لوگوں میں سے جن لوگوں کو فارمولے سے اتفاق ہے وہ ہاتھ اٹھائیں۔ اچانک کچھ مسلمان اٹھ کر شور کرنے لگے۔ ان کے شور میں کوئی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ صرف یہ سنائی دیا کہ: ہم مولانا کے فارمولے کو نہیں مانتے۔

اس کے بعد سوامی چید آنند اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے بڑے جذ باتی انداز میں میری حمایت کی۔ اس سے لوگ ٹھنڈے ہوئے ۔ اس کے بعد نانی پالکی والا آئے۔ انھوں نے شاندار انگریزی تقریر میں میری زبردست حمایت کی۔ ان کی تقریر نہایت علمی اور نہایت موثر تھی۔ اس کے بعد مجمع بالکل خاموش ہوگیا۔

۲۰ فروری ۱۹۹۳ کو بمبئی کے مذکورہ جلسہ میں جس مسلمان بزرگ نے سب سے زیادہ ہنگامہ برپا کیا، وہ مولا نا ضیاء الدین بخاری تھے۔ موصوف ابتدا ایک معمولی اور گم نام چیز تھے۔ اس کے بعد وہ بمبئی کی مسلم سیاست کے میدان میں آئے۔ اپنی جوشیلی تقریروں کے ذریعہ انھوں نے مقامی مسلم حلقوں میں کافی شہرت حاصل کی۔ وہ " بیباک مسلم لیڈر" کے روپ میں ابھرے۔ اور ایک صحافی کے الفاظ میں، بمبئی کے مسلمانوں کی مزاحمتی سیاست کی علامت بن گئے۔ (ہندوستان، بمبئی، ۲۱- ۲۲ اپریل ۱۹۹۳)

۲۰ فروری کے جلسہ میں انھوں نے اتنا شور کیا کہ کوئی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ مگر عجیب بات ہے کہ دو ماہ بعد ۲۱ اپریل ۱۹۹۳ کو یہ آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔ بمبئی کے علاقہ ۔ بائی کلہ کی نائن پولیس بلڈنگ میں واقع ان کے دفتر میں چار مسلح لوگ داخل ہوئے اور ریوالور سے مسلسل فائر کر کے ان کو ہلاک کر دیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

بمبئی کے سفر پر روانگی سے پہلے بمبئی سے کئی ٹیلی فون آئے تھے کہ آپ بمبئی نہ آئیں۔ یہاں کچھ افراد آپ سے بہت ناراض ہیں۔ وہ آپ کے خلاف کچھ بھی حرکت کر سکتے ہیں۔ تاہم میں اللہ کے بھروسے پر بمبئی گیا۔ جس وقت ہال میں کچھ مسلمان ہنگامہ کر رہے تھے اور میں اسٹیج پر

‹ Previous page Next page › Contents of December 1993 All issues

Printed page