Al-Risala · February 1993 · page 12

فساد کا مسئلہ

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۱۲

فساد کا مسئلہ

جناب ایم۔ ساجد صاحب (دہلی) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ مجھے آپ کی سب باتوں سے اتفاق ہے۔ مگر ایک بات ایسی ہے جس سے میں اتفاق نہیں کر سکتا۔ وہ یہ کہ ملک کے فرقہ وارانہ فسادات کا ذمہ دار آپ مسلمانوں کو بتاتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ مسلمان فساد کرتے ہیں۔ ہم کیوں کر اس کو مان لیں۔ یہ تو واقعہ کے خلاف ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے میری بات کی صحیح ترجمانی نہیں کی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مسلمان پر فساد کرنے کی ذمہ داری ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ مسلمان پر فساد کو نہ رو کنے کی ذمہ داری ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں ہے : وان تصبروا وتتقوا لا يضركم كيد هم شيئا (آل عمران ۱۴) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو مخالفین کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ سازش کی موجودگی نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ صبر وتقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔ اس کے مطابق ، فساد کا واقعہ پیش آنے کا سبب یہ نہیں ہے کہ یہاں سازش ہے۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم اس کے مقابلہ میں صبر و تقویٰ کا طریقہ اختیار نہیں کر پاتے۔ میں نے کہا کہ خواہ ہندوستان کا مسئلہ ہو یا کسی اور ملک کا مسئلہ، ہمیشہ ایسا ہوگا کہ کچھ لوگ ایسی کارروائی کریں گے جس سے دوسروں کے جذبات بھڑکیں۔ اس مسئلہ کا حل دوسروں کو روکنا نہیں ہے بلکہ خود اپنے جذبات پر کنٹرول کرنا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں نے جہاں بھی رد عمل کا اور مشتعل ہونے کا طریقہ اختیار کیا ، وہاں بات بڑھ کر فساد تک پہنچ گئی۔ اور جہاں صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا وہاں بات پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہوگئی اور عمومی فساد کی نوبت نہیں آئی۔ اس حقیقت کو بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ایڈ منسٹریشن کبھی فساد کو روک نہیں سکتا۔ فساد جب بھی ر کے گا وہ مسلمانوں ہی کے رو کنے سے رکے گا۔ اور اس کو رو کنے کی تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اشتعال انگیزی پر مشتمل نہ ہوں۔ وہ ناخوش گوار با توں پر صبر کر لیں ۔ اور اگر ضرورت ہو تو پہلے ہی مرحلہ میں اس کو پولیس کے حوالے کر دیں۔ اگر مسلمان ایسا کریں تو اس ملک میں ہمیشہ کے لیے فساد کی جڑ کٹ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page