نیا ہندوستان
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۳، صفحہ ۸
نیا ہندوستان
اکتوبر ۱۹۶۲ میں دو ہفتے کے لیے میں انگلینڈ میں تھا۔ وہاں لندن ، برمنگھم ، مانچسٹر وغیرہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ان مقامات پر بہت سے ہندوستانیوں سے ملاقات ہوئی جو آزادی کے بعد ہندوستان چھوڑ کر انگلینڈ چلے گئے اور وہاں آباد ہو گئے۔ میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ آپ نے کس لیے ہندوستان چھوڑ دیا۔ انھوں نے جواب دیا کہ وطن ہم کو بھی عزیز ہے۔ مگر اپرا ملک ہمیں اس لیے چھوڑنا پڑا کہ وہاں کا سسٹم اچھا نہیں۔ وہاں ترقی کے مواقع نہیں۔ یہ بہت زیادہ سوچنے کی بات ہے۔ کیوں کہ آزادی کے لیے قربانیاں تو اس لیے دی گئی تھیں کہ آزادی کے بعد ملک میں زیادہ اچھا نظام بنایا جا سکے گا۔ مگر عملی نتیجہ بالکل برعکس صورت میں ظاہر ہوا۔ آزادی کے بعد یہاں کا نظام پہلے سے زیادہ خراب ہو گیا۔
روزنامہ امرت بازار پتریکا کے سابق ایڈیٹر مسٹر موتی لال گھوش کا انتقال ۱۹۲۰ میں ہوا۔ اس وقت وہ کلکتہ کے اسپتال میں تھے ، مہاتما گاندھی اسپتال میں ان سے ملے۔ جواہر لال نہر کی روایت کے مطابق ، موتی لال گھوش نے گاندھی جی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ باپو ، میں مر رہا ہوں۔ مگر مجھے اطمینان ہے کہ اب میں ایک ایسی دنیا میں جا رہا ہوں جہاں برطانی راج نہ ہوگا :
... where the British Empire did not exist. (p. 66)
یہ ایک علامتی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کی آزادی سے ہم نے کیا امیدیں قائم کی تھیں اور آزادی کے بعد کس طرح ہماری امیدیں پوری نہ ہو سکیں۔ ہماری پچھلی نسل ملک کے تمام مسائل کا ذمہ دار انگریز کو سمجھتی تھی۔ مگر جب آزادی آئی تو اس نے ہمارے کسی بھی مسئلہ کو ختم نہیں کیا۔ بلکہ مسائل کو اور زیادہ بڑھا دیا۔
اس کی آخری حد یہ ہے کہ ہماری پچھلی نسل انگریزوں کے ہندوستان میں زندہ رہنے کے مقابلہ میں موت کو ترجیح دیتی تھی۔ مگر جب انگریز ہندوستان کو چھوڑ کر اپنے ملک میں چلے گئے تو ہماری اگلی نسل کے لوگوں کا حال یہ ہوا کہ وہ ہندوستان کو چھوڑ کر دوبارہ انگریزوں کے ملک
‹ Previous page Next page › Contents of January 1993 All issues