ٹکراؤ کے بغیر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۰
ٹکراؤ کے بغیر
یہاں ایک سوال یہ ہے کہ مسجد کی تعمیر کے بعد اگر مسجد کے معاملہ میں کوئی مسئلہ کھڑا ہو تو اہل اسلام کو ایسے موقع پر کیا کرنا چاہیے ۔ اس کی ایک انتہائی مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں موجود ہے۔
مکہ کی مسجد حرام تمام مسجدوں میں سب سے زیادہ مقدس مسجد ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے ، اس وقت یہ مسجد اہل شرک کے قبضہ میں تھی، انھوں نے اس مسجد میں ۳۶۰ بت رکھ دیے تھے۔ یہ بلاشبہ کہ کا اہم ترین مسئلہ تھا۔ مگر اس وقت قرآن میں جو آیتیں اتریں ان میں رسول اللہ کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ مکہ کی مسجد کو بتوں سے پاک کرو، یا اس کے اخراج کے لیے کہ میں احتجاجی مہم چلاؤ۔
اس کے بجائے قرآن میں پہلی آیت یہ اتری کہ (اقرا باسم ربك الذی خلق ) اللہ کے نام سے پڑھو جس نے تم کو پیدا کیا) مکہ کے تیرہ سالہ دور میں اسی قسم کی دعوتی آیتیں اترتی رہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے کی دور میں کبھی بھی مسجد سے بتوں کے اخراج کو شو نہیں بنایا۔ مسجد سے بتوں کو نکالنے کے بجائے آپ دلوں سے بت کو نکالنے کی مہم میں لگے رہے۔ گویا مسجد میں بت کے مسئلے کو آپ نے لوگوں کے دلوں میں داخلہ سے حل کیا نہ کہ خود مسجد میں داخلہ سے۔
مسجد ضرار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ مدینہ کے اطراف میں کچھ لوگوں نے ایک مسجد بنائی اور اس میں نماز پڑھنا شروع کیا۔ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد میں لے جانا چاہا مگر آپ اس میں داخل نہیں ہوئے اور بعد کو آپ کے حکم سے وہ مسجد توڑ دی گئی (التوبہ ۱۰۷)
اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ مسجد کچھ شرارت پسند مسلمانوں نے بنائی تھی۔ یہ لوگ بظاہر مسلمان تھے۔ مگر اندر اندر وہ رسول اللہ کی سیادت کو پسند نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی یہ مسجد اس لیے بنائی تھی کہ وہاں نماز کے پردہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازش کریں ۔ مسجد اس
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues