مسجد ضرار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۱
قسم کی مخالفانہ سرگرمیوں کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ وہ ذکر اور تقویٰ والے اعمال کے لیے ہے۔ اس لیے اس مسجد کو ڈھایا گیا اور اس کو جلا کر ختم کر دیا گیا (التفسیر المظہری ۴/ ۲۹۷) دورِ رسالت کے اس واقعہ سے یہ اصول معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کا سیاسی استعمال اسلام میں درست نہیں۔ یہ مسجد کے مقصد کی نفی ہے کہ اس کو سیاسی نظام کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے ۔ مسجد صرف عبادت خانہ ہے ، اور اس کو عبادت خانہ ہی کی حیثیت سے باقی رہنا چاہیے۔ عبادت سے تعلق رکھنے والے شعبے مسجد میں قائم کیے جاسکتے ہیں، مگر عبادت کے خلاف شعبے نہیں۔ مسجد کی حفاظت قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قوانین میں سے ایک قانون دفع ہے۔ اس کے ذریعہ وہ حالات میں ایسی تبدیلی کرتا رہتا ہے جو مسجد اور دوسرے عبادت خانوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ قرآن کی یہ آیت حسب ذیل ہے :
ولولا دفع الله الناس بعضهم اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ ببعض لهدمت صوامع وبيع سے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا وصلوات ومساجد يذكر فيها اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں اللہ کا اسم الله كثيراً۔ ولينصرن الله من نام کثرت سے لیا جاتا ہے، ڈھادیے جاتے۔ ينصره، ان الله لقوی عزیزین اور اللہ ضرور اس کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی مدد (الج :۴۰) کرے ۔ بے شک اللہ زبردست ہے، زور والا ہے۔
دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو آزادی عطا کی ہے۔ مگر اس آزادی کی ایک حد ہے۔ اور وہ حد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یا گروہ وہ اپنی آزادی کو یہاں تک لے جائے کہ وہ مذاہب کے عبادت خانوں کو اور مسجدوں کو ڈھانے لگے تو ایسے شخص یا گروہ وہ کو اقتدار کے مقام سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ ایسے سرکش لوگوں کے خلاف ہمیشہ کوئی جوابی طاقت ظاہر ہوتی ہے جو ان کو دھکیل کر پیچھے کر دیتی ہے تا کہ وہ عبادت خانوں کی تخریب کے قابل نہ رہیں ۔ موجودہ زمانہ میں اس کی ایک مثال سوویت یونین ہے۔ اس نے اپنے زیر قبضہ علاقہ میں الريال فروری ۱۹۹۳
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues