Al-Risala · February 1993 · page 22

مسجد کی بے حرمتی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۲

مسجدوں اور عبادت خانوں کو ختم کرنا شروع نہ کیا تو اللہ تعالی نے ایسے حالات پیدا کیے کہ خود سوویت یونین کا خاتمہ ہو گیا۔

مسجد کی بے حرمتی

البخاری مسلم، النسائی، الترمذی، ابوداؤد اور موطا امام مالک میں یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ کی مسجد نبوی میں تھے۔ اس اثناء میں ایک دیہاتی آیا۔ وہ مسجد میں کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ آپ کے اصحاب اس کو پکڑنے کے لیے دوڑے تو آپ نے فرمایا کہ ٹھہرو۔ اس کو کر لینے دو۔ دیہاتی آدمی جب پیشاب کر چکا تو آپ نے لوگوں سے کہا کہ پانی لے کر پیشاب کے مقام پر بہا دو اور اس کو صاف کر دو۔ پھر آپ نے دیہاتی کو بلایا اور اس سے نرمی کے ساتھ کہا :

اِنَّ هٰذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ یہ مسجد میں پیشاب اور گندگی جیسی چیزوں کے مِنْ هٰذَا الْبَوْلِ وَالْقَذَرِ اِنَّمَا ھِیَ لیے نہیں ہیں، وہ اللہ کی یاد کے لیے اور نماز لِذِكْرِ اللهِ وَالصَّلوةِ وَقِرَاءةِ القُرآنِ - کے لیے اور قرآن پڑھنے کے لیے ہیں۔ اس حدیث کو امام البخاری نے باب الرفق فی الامر کلہ کے تحت نقل کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد کی اتنی بڑی بے حرمتی کرے کہ وہ اس میں داخل ہو کر پیشاب کر دے تب بھی مسلمانوں کو مشتعل نہیں ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کو ہر حال میں نرمی اور بردباری کی روڈش پر قائم رہنا چاہیے۔ ان کی توجہ گندگی کی صفائی پر ممکنہ رہنا چاہیے نہ کہ گندگی پیدا کرنے والے سے انتقام لینے پر۔ ھذا کا معاملہ مساجد کے تاریخی واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو برطانیہ کا کے بیان کے مطابق ۵۷۰ء میں عرب میں پیش آیا۔ اس وقت یمن میں ایک مسیحی بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام ابرہہ تھا۔ اس نے اپنی راجدھانی صنعا میں ایک بہت بڑا کلیسا بنایا۔ اور چاہا کہ اس کو سارے جزیرہ عرب کی زیارت گاہ بنا دے۔ اس وقت کعبہ عربوں کا سب سے بڑا مقدس عبادت خانہ سمجھا جاتا تھا۔ ابرہہ نے طے کیا کہ وہ کعبہ کو ڈھا دے، تاکہ اس کے مقصد کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ ابرہہ ایک بڑی فوج لے کر یمن سے روانہ ہوا۔ اس میں ۶۰ ہزار سپاہی اور تقریبًا ایک الرسافروری ۱۹۹۳ء

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page