Al-Risala · February 1993 · page 23

مسجد کی بے حرمتی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۳

درج بن ہاتھی تھے ، مکہ کے قریب پہنچ کر اس نے پڑاؤ ڈالا۔ اس کے فوجیوں نے یہاں لوٹ مار کی ۔ اس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب بن ہاشم کے دو سو اونٹ بھی تھے جن کو ابرہہ کے فوجی ہنکا لے گئے ۔

عبد المطلب اس کے بعد روانہ ہو کر ابرہہ کے پاس پہنچے اور اس سے ملاقات کی۔ وہ نہایت وجیہہ آدمی تھے اور شاندار شخصیت کے مالک تھے ، جب وہ ابرہہ کے خیمہ میں داخل ہوئے تو ابرہہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا اور اپنے تخت سے اتر کر فرش کے اوپر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کے بعد ترجمان کے ذریعہ دونوں میں بات ہوئی ۔

ابرہہ نے ترجمان کی معرفت عبد المطلب سے پوچھا کہ آپ کے آنے کی غرض کیا ہے؟ عبد المطلب نے جواب دیا کہ تمہارے آدمیوں نے میرے دو سو اونٹ پکڑ لیے ہیں۔ یہ اونٹ مجھے واپس دے دیے جائیں۔ ابرہہ نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر تو میں آپ سے متاثر ہوا تھا۔ مگر آپ کی اس بات نے آپ کو میری نظر سے گرا دیا۔ آپ پر تعجب ہے کہ آپ مجھ سے اپنے اونٹ کی بات کرنے رہے ہیں، اور اس مقدس گھر کی بات نہیں کرتے جس کو ڈھانے کے لیے میں یہاں آیا ہوں۔ اس کے جواب میں عبد المطلب نے کہا: انا رب الإبل وللبيت رب يمنعه میں اونٹ کا مالک ہوں۔ اور مقدس گھر کا مالک خدا ہے ، وہ اس کی حفاظت کرے گا۔

( الكامل في التاريخ لابن اثیر ، ۴۴۴/۱ )

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۵ نازل ہوئی جو خاص اسی واقعہ کے بارہ میں ہے ، اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ قریش کے سردار عبد المطلب بہت بزدل تھے کہ انھوں نے کہ کی مقدس مسجد پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس سورہ میں صرف اللہ کی اس کارروائی کا ذکر ہے کہ اس نے حملہ آوروں کو پس پا کر کے مکہ کی مسجد کو بچا لیا۔ اس طرح قرآن کی یہ سورہ گویا عبد المطلب کے عمل کی تصدیق ہے۔ وہ بالواسطہ انداز میں اس اصول کو بتا رہی ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد کے خلاف اقدام کرے تو اس وقت اہل مسجد کو کیا کرنا چاہیے۔ اہل مسجد کو چاہیے کہ اس وقت اپنے آپ کو سنبھال لیں، اور مسجد کے معاملہ کو خدا کے حوالے کر دیں۔ مسجد یا عبادت گاہ کو ہمیشہ احترام کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اگر ضد کا ماحول نہ ہو تو خود انسان کا ضمیر مسجد کا چوکیدار بنارہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page