مسجد کی عظمت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۲۴
مسجد کی عظمت
مسجدِ خدائے برتر کی عظمت کا مقام ہے۔ اس نسبت کے مسجد کے اندر ایک فاتحانہ شان پیدا کر دی ہے۔ حتیٰ کہ مسجد اپنی نگہبان آپ بن جاتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی مسجد کو نقصان پہنچایا تو جلد یا بدیر مسجد خود اسی کے اوپر غالب آگئی۔ یہاں تک کہ مسجد کو نقصان پہنچانے والوں ہی نے مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔
اس سلسلہ کا ایک نمایاں واقعہ وہ ہے جو عباسی سلطنت کی تباہی (۱۲۵۸ء) کے بعد پیش آیا۔ یہاں ہم ایک عرب محقق کے الفاظ نقل کریں گے۔ انھوں نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے زبردست طور پر لکھا ہے :
وهاجم المغول عالم الاسلام من الشرق، وخربوا البلاد واهلكوا العباد، ولكنهم لم ينتصروا على الاسلام، بل هز منهم الاسلام وغزا قلوبهم، وفي نفس المساجد التي خربها المغول في طريقهم من سمرقند الى حلب وجعلوا معظمها اطلالا ركع المغولي المغلوب على امره وسجد للواحد القهار تحت سقوف المساجد، وقام احفاد هولاكو باعادة بناء المساجد وفيما صلوا وتحولوا الى بشر مسلمين، ولم يلبثوا ان خرجوا هم انفسهم مجاهدين في سبيل الاسلام حاملين رايته مدافعين اعدائه، وسائرين باسمه في معارج الرقى والعمران ( ڈاکٹر حسین مؤنس، المساجد، المجلس الوطني للثقافة والفنون والآداب ، کویت ۱۹۸۱ء، صفحہ ۶۲) مشرق سے منگولوں نے عالمِ اسلام پر یلغار کی۔ انھوں نے شہروں کو تباہ کیا اور انسانوں کو ہلاک کیا۔ مگر وہ اسلام پر فتح نہیں پا سکے۔ بلکہ اسلام نے انھیں شکست دی اور ان کے دلوں کو مفتوح کر لیا۔ وہی مسجدیں جن کو سمرقند سے لے کر حلب تک کے راستے میں منگولوں نے ڈھا دیا تھا اور ان میں سے بیشتر کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا تھا، بالآخر انھیں مسجدوں کو ہلاکو کے پوتوں نے دوبارہ تعمیر کیا۔ اور اس کی چھتوں کے نیچے انھوں نے عاجزانہ طور پر خدائے واحد و قہار کے آگے سجدہ کیا۔ وہ سب بالآخر مسلمان بن گئے۔ اور اسلام کا پرچم لے کر اس کی راہ میں جہاد کے لیے نکل پڑے۔ انھوں نے اسلام کے دشمنوں کا دفاع کیا۔ اور اس کے ذریعہ ترقی و تمدن کے اعلیٰ مراحل طے کیے (صفحہ ۲۲) الز۔ فروری ۱۹۹۳
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues