Flying in winter still hazardous
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۳۸
حیدر آباد کو قطب شاہی نے ۱۵۹۱ میں آباد کیا تھا۔ اپنے وقت کا وہ نہایت خوبصورت شہر شمار کیا جاتا تھا۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ وہ منصوبہ بندی اور تعمیر کا ایک حیرت ناک نمونہ تھا: It was a marvel of planning and an architentural wonder. (9/75)
۱۶۸۵ میں مغل حکمران اورنگ زیب نے حیدر آباد کو سلطنت دہلی میں شامل کر لیا۔ مگر اس کوشش میں شہر برباد ہو گیا۔ دو سو سال تک شہر ایسا ہی پڑا رہا۔ جب مغل سلطنت کو زوال ہوا اس وقت آصف جاہ نظام الملک مغلوں کی طرف سے یہاں کا گورنر تھا۔ اس نے آزادی کا اعلان کر کے حیدر آباد پر قبضہ کر لیا۔ اس عمل میں اولاً فرخ اور اس کے بعد برٹش نے اس کی مدد کی۔ ریاست نظام نے حیدر آباد میں ترقی کے بہت سے کام کئے۔
آزادی کے ۱۹۴۸ کے بعد رضا کا ر تحریک نے دوبارہ حیدر آباد کو تباہ کیا۔ نااہل لیڈروں نے حیدر آباد کو صرف بربادی کا تحفہ دیا تھا۔ تاہم حالات کے دباؤ کے تحت کچھ افراد کے اندر حرکت پیدا ہوئی ۔ ملی سطح پر اگرچہ یہاں کی قوم لیڈروں کے نا عاقبت اندیشانہ انجام کی شکار ہے۔ تاہم افراد کی سطح پر آپ کو یہاں ایسے لوگ ملیں گے جو اپنے ذاتی دائرہ میں مختلف میدانوں میں ترقی کر رہے ہیں۔ ریاست کے دور میں حیدر آباد میں صدر الصدور کا عہدہ ہوا کرتا تھا جو تمام امور مذہبی کا نگراں ہوتا تھا۔ آصف جاہ سابع نے جب جامعہ عثمانیہ کے قیام کا ارادہ کیا تو اس وقت مولانا انوار اللہ خاں صدر الصدور تھے۔ انھوں نے یونیورسٹی کو دینی لحاظ سے مفربت کہا اور اس کی مخالفت کی اور عالی دکن کو اس سے باز رکھا۔ مولانا موصوف کے انتقال کے بعد مولانا حبیب الرحمن شروانی صدر الصدور مقرر ہوئے تو انھوں نے جامعہ عثمانیہ کی پر زور حمایت کی۔ انھیں کے زمانہ میں اس کا قیام ہوا۔ اندرونی اختلافات کی بنا پر ۱۳ اپریل ۱۹۳۰ کو انھوں نے اس عہدہ سے استعفا دے دیا۔
مولانا حبیب الرحمن نے مولانا عبد الباری ندوی کو جامعہ عثمانیہ میں فلسفہ کے شعبہ کا استاد مقرر کر دیا۔ اس پر دربار کے لوگوں نے والی دکن کو یہ شکایت پہنچائی کہ شروانی صاحب نے ایک ایسے شخص کو فلسفہ کا پروفیسر مقرر کیا ہے جس کے پاس اس مضمون کی کوئی ڈگری نہیں۔ والی دکن میر عثمان علی خاں نے بازپرس کی تو مولانا شروانی نے مولانا عبد الباری ندوی کے رسالہ ” مذہب
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues