Al-Risala · February 1993 · page 41

Flying in winter still hazardous

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۴۱

انشاءاللہ رسالہ کی آواز ہی لوگوں کے لئے واحد قابل توجہ آواز بن جائے گی، اور حالات بتاتے ہیں کہ اس دور کا اب آغاز ہو چکا ہے۔

۱۵ جنوری کو تقریبا نصف دن حیدر آباد میں گزارنے کے بعد محبوب نگر کے لئے روانگی ہوئی۔ میں نے اپنی گاڑی کے ڈرائیور سے پوچھا کہ روڈ ایکسیڈنٹ سے بچنے کا راز کیا ہے۔ اس نے کہا کہ دوسرا ہٹنے کے لئے تیار نہ ہو تو اپنے آپ کو سامنے سے ہٹا دینا۔ میں نے سوچا کہ کار کا یہ گمنام ڈرائیور زندگی کے مسائل کو جس طرح جانتا ہے، ملت کے مشہور ڈرائیور اس راز کو کیوں نہیں جانتے۔ دل نے جواب دیا کہ گم نام ڈرائیور اپنی فطرت پر ہے، جب کہ مشہور ڈرائیور اپنی استعمال پسند ذہنیت کی بنا پر فطرت سے بہت دور چلے گئے ہیں۔

۱۵ جنوری کی شام کو ہمارا قافلہ محبوب نگر پہنچا۔ یہاں تین دن قیام رہا۔ اس دوران ملاقاتوں کے علاوہ مسلسل خطابات کا سلسلہ جاری رہا۔ بیشتر خطابات کریسنٹ پبلک اسکول میں ہوئے۔ ایک عمومی خطاب مدرسہ سراج العلوم میں ہوا۔ یہ تمام خطابات دعوتی اور تربیتی موضوعات پر تھے ۔ حیدر آباد اور محبوب نگر کے علاوہ قریبی مقامات کے لوگ بھی اس تربیتی کیمپ میں شریک تھے۔ خطابات کا خلاصہ اگلے صفحات میں دیکھا جا سکتا ہے۔

محبوب نگر کے سفر کا خاص مقصد یہاں کے تربیتی کیمپ میں شریک ہونا تھا۔ یہ تربیتی کیمپ مولانا امیر اللہ خاں صاحب، مولانا سید اکبر الدین قاسمی اور جناب احمد بختیار الدین ایم ایس سی کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔

یہ تربیتی کیمپ اپنی نوعیت کا منفرد کیمپ تھا۔ موجودہ سفر نامہ میں اس کا تفصیلی نقشہ پیش کرنا مشکل ہے۔ دوسرے پروگراموں کے علاوہ اس موقع پر ایک پر ایک درجن خطابات ہوئے۔ ان خطابات میں جو باتیں کہی گئیں اور سوالات کے جوابات دیئے گئے ان کا خلاصہ اگلے صفحات میں دیکھا جا سکتا ہے۔

محبوب نگر کے تربیتی اجتماع کے موقع پر الرسالة اکیڈمی، آندھرا پردیش کی طرف سے ۳۲ صفحات کا ایک پمفلٹ چھاپا گیا تھا جو لوگوں کے درمیان مفت تقسیم کیا گیا۔ اس کا نام تھا۔ تاریخ دعوت حق : اہمیت، ضرورت اور تقاضے۔ اس پمفلٹ میں الرسالہ کی کچھ تحریریں جمع کی گئی تھیں۔ آغاز میں

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page