Al-Risala · February 1993 · page 42

Flying in winter still hazardous

الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۴۲

جناب احمد بختیار الدین صاحب کی طرف سے ایک '' ابتدائیہ '' شامل تھا۔ لوگوں نے اس کو کافی پسند کیا۔

مولا نا عبدالقدیر قاسمی خطیب مسجد عابدین ، ناندیڑ) نے بتایا کہ ناندیڑ میں ہر سال شیوجینتی کا جلوس نکلتا ہے جو ان کی مسجد کے سامنے سے گزرتا ہے۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ جلوس گزرنے کے وقت مسلم نوجوان مسجد کے سامنے جمع ہو جاتے۔ جلوس والے ان کو دیکھ کر نعرے لگاتے۔ اس سے جوان مشتعل ہو جاتے اور ٹنشن کی صورت پیدا ہو جاتی۔

۱۹۹۰ میں مولا نا عبدالقدیر صاحب نے مسلم نوجوانوں کو سمجھایا کہ جس نعرہ پر تم غصہ بہتے ہو، وہ نعرے دراصل اس لئے لگائے جاتے ہیں کہ تم جلوس کے وقت مسجد کے سامنے سڑک پر جمع ہو جاتے ہو؛ تم کو دیکھ کر جلوس والوں کو جوش آتا ہے اور وہ نعرے کی صورت میں اس کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر تم وہاں کھڑے نہ ہو تو ان کے نعرے بھی ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔

مولانا عبدالقدیر صاحب کئی دن تک مسلم نوجوانوں کو سمجھاتے رہے۔ آخر کار وہ راضی ہو گئے ۱۹۹۰ میں حسب معمول شیوجینتی کا جلوس آیا۔ وہ سڑک سے گزرتا ہوا مسجد کے سامنے پہنچا۔ مگر اس بار وہاں کوئی مسلمان موجود نہ تھا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جلوس والے بھی ٹھنڈے پڑ گئے۔ خلاف معمول اس بار انہوں نے مسجد کے سامنے کوئی نعرہ نہیں لگایا۔ بس سڑک سے گزرتے ہوئے آگے چلے گئے۔ اس نے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ ان واقعات کو ابتدائی مرحلہ ہی میں ختم کر دیا جائے جو بڑھ کر فرقہ وارانہ فساد تک پہنچ جاتے ہیں اور جان و مال کی تباہی کا سبب بنتے ہیں محمد عبد القادر صاحب (پیدائش ۱۹۵۵ ، پولٹری کی تجارت کرتے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک میں مسلمانوں کے لئے ہر قسم کی ترقی کے مواقع موجود ہیں۔ تعصب ہمیشہ مصنوعی ہوتا ہے۔ آپ ہوشیاری کے ساتھ تعصب کی ہر دیوار کو گرا سکتے ہیں۔ انھوں نے اپنے کئی تجربات بتائے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ۱۹۸۳ میں بینک سے ایک لاکھ روپیہ قرض لے کر پولٹری فارم کھولا۔ ابھی اس کی قسطیں ادا نہیں ہوئی تھیں کہ ۱۹۸۵ میں میں نے دوبارہ بینک کو مزید قرض کی درخواست دی۔ مقامی بینک منجر سخت متعصب تھا۔ اس نے چاہا کہ مجھے قرض نہ ملے اور میرا کاروبار فیل ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues

Printed page