Flying in winter still hazardous
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۴۳
اس درمیان میں زونل منیجر حیدر آباد سے یہاں آنے والا تھا۔ وہ ان فارموں کا معائنہ کرنا چاہتا تھا جفتروں نے ہمارے یہاں بینک سے قرض لیا ہے۔ ایک ہندو جو پولٹری فارم چلا رہا تھا اس نے بھی مزید قرض کی درخواست دی تھی۔ منیجر نے اس ہندو کو دو ہفتہ پہلے بتا دیا تھا کہ زونل منیجر آنے والے ہیں تم فاؤنڈیشن اسٹون کا انتظام کرلو۔ دوسری طرف عبد القادر صاحب سے کچھ نہیں بتایا۔ ان سے زونل منیجر کی آمد کو چھپایا۔
جب آخری وقت آگیا اور معلوم ہوا کہ وہ کل آنے والے ہیں تو آج شام کو عبد القادر صاحب کو بلا کر کہا کہ کل زونل منیجر آرہے ہیں تم اگر قرض لینا چاہتے تو فاؤنڈیشن اسٹون کا انتظام کر لو۔ اس کے ذہن میں یہ نقشہ تھا کہ اتنے کم وقت میں عبد القادر صاحب انتظام نہ کر سکیں گے اور ان کے قرض کی درخواست بھی رد ہو جائے گی۔ مگر عبد القادر صاحب نے ہمت نہیں ہاری۔ اس دن انہوں نے ساری رات کام کیا اور فاؤنڈیشن اسٹون کا شاندار طور پر انتظام کر لیا۔ اگلے دن زونل منیجر آیا تو ہندو فارم پر معمولی انتظام تھا۔ چنانچہ وہاں وہ صرف پانچ منٹ رکا۔ مگر عبد القادر صاحب کے فارم پر وہ ایک گھنٹہ تک ٹھہرارہا۔ ان کے کام کی بہت تعریف کی اور فورا ان کے قرض کی رقم جاری کردی۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمل کی طاقت سازش کی طاقت سے زیادہ ہے مگر آپ کے پاس عمل کی طاقت ہو تو آپ ہر سازش کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ حتی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ سازش خود آپ کی ترقی اور کامیابی کا زینہ بن جائے۔
مفتی سید تمیز الدین قاسمی ناندیر، الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کو الرسالہ سے سب سے پہلے ایک ہندو افسر نے متعارف کرایا تھا۔ یہ مسٹر آرونڈ پانڈے (رائنی کرپشن ڈیپارٹمنٹ) ہیں۔ وہ انگریزی الرسالہ پڑھتے ہیں۔ انھوں نے کئی مسلمانوں کے پاس الرسالہ کا اردو ایڈیشن حاصل کرکے بھجوایا۔ اور کہلایا کہ یہ ایک اچھا رسالہ ہے، اس کو آپ لوگ پڑھیں ۔ انہی میں سے ایک مفتی سید تمیز الدین قاسمی بھی ہیں۔ ان کو بھی مسٹر اروند کے ذریعہ الرسالہ ملا۔ اور پھر انھوں نے مسلسل اس کو پڑھنا شروع کر دیا۔
۱۹ جنوری کی شام کو محبوب نگر سے دوبارہ حیدر آباد کے لئے واپسی ہوئی۔ یہاں ۱۹ - ۲۰ جنوری کے درمیان کئی پروگرام ہوئے۔ فتح منزل میں ایک تفصیلی خطاب تھا جس میں ایمان و اسلام
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues