Flying in winter still hazardous
الرسالہ، فروری ۱۹۹۳، صفحہ ۴۵
دیہات و قصبات کے طلبا اقامت وطعام کی سہولت کے ساتھ تعلیم و تربیت حاصل کر رہے ہیں، غریب، یتیم طلباء کی کفالت مدرسہ کی جانب سے کی جاتی ہے۔ اس وقت مدرسہ اوپل کی قدیم بستی کے ایک سفال پوش کرایہ کے مکان میں چل رہا ہے جو مدرسہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے اعتبار سے ناکافی ہے۔ عرصہ سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ ایک کشادہ آراضی پر مدرسہ کی تعمیر کی جائے جس پر، درس گاہیں، ہاسٹل، دفاتر، مطبخ کے علاوہ کھیل کود کے لئے میدان ہو، چنانچہ اس منصوبے کے تحت ۲ ہزار گز آر اضی اوپل بس ڈپو سے کچھ فاصلے پرمیں۔ ڈپلی حدود میں خرید کر مدرسہ کے نام رجسٹری کرا لی گئی ہے اور ایک مخیر خاتون نے اپنے مرحوم شوہر کے ایصالِ ثواب کی خاطر زمین پر بورویل کا نظم کر دیا ہے، جس پرجٹ پمپ اور کمرے کی تعمیر بھی ہو چکی ہے ۔ اور ایک تجربہ کار آرکٹیکٹ کے ذریعہ نقشہ تیار کرایا گیا اور تعمیر کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لئے تقریباً ۲۰ لاکھ روپے کی ضرورت ہوگی ۔
۱۹۴۸ء کے انقلاب کے بعد سابق ریاست حیدرآباد میں جو تباہی آئی تھی وہ ایک عرصہ تک لوگوں کے لئے فریاد و ماتم کا موضوع بنی رہی۔ اس کے بعد یہاں کے مسلمانوں میں بیداری آئی۔ انھوں نے مختلف اقتصادی شعبوں میں اپنی محنت سے داخل ہو نا شروع کیا۔ دینی تعلیم اور سیکولر تعلیم کے ادارے قائم کئے جانے لگے۔ یہاں تک کہ اب حیدر آباد میں اتنی کثرت سے تعلیمی ادارے قائم ہو چکے ہیں کہ حیدر آباد کو مسلمانوں کا تعلیمی ایمپائر کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔ میرا اندازہ ہے کہ حیدر آباد کے مسلمان آج اس سے بھی زیادہ بہتر حالت میں ہیں جیسا کہ وہ ۱۹۴۷ء سے پہلے تھے۔ ریاست پر بھروسہ سے انھوں نے جتنا پایا تھا۔ اس سے زیادہ انھوں نے اپنے آپ پر بھروسہ سے پایا۔
۱۹ جنوری ۱۹۹۲ کو میں جامعہ ریاض الاسلام کی نئی عمارت کی سنگ بنیاد کی تقریب میں شریک تھا۔ تھوڑے فاصلہ پر ایک بلند اور شاندار عمارت نظر آئی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ ایک مسیحی ادارہ ہے۔ جو مسیحی تعلیمات کی نشرو اشاعت کے لئے قائم کیا گیا ہے۔
اس کے بعد میں نے جلسہ میں جامعہ ریاض الاسلام کے ذمہ داروں کی تقریریں سنیں۔ ان تقریروں میں سامنے دکھائی دینے والے بلند مسیحی ادارہ کے خلاف کوئی احتجاج نہ تھا۔ تقریروں کا سارا خلاصہ یہ تھا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہاں ایک عظیم اسلامی ادارہ بنا کر کھڑا کر دیں جو دور تک اسلام کی روشنی پھیلانے کا ذریعہ بن جائے۔ میں نے کہا کہ یہی مطلب ہے اس قدیم مثال کا کہ کسی کی لکیر کو چھوٹا ثابت کرنے کی سب سے زیادہ آسان صورت یہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1993 All issues